صدیوں قبل منجمد ہونے والے پودے زندہ

Image caption یہ تحقیق کینیڈا کی یونیورسٹی آف البرٹا کے ایک گروپ نے کینیڈا کے برفانی آرکٹک میں واقع ٹیئر ڈروپ گلیشیئر کے علاقے میں کی

ایک تحقیق کے مطابق صدیوں قبل منجمد ہونے والے پودوں میں سائنسدانوں نے از سرِ نو نشوونما کے آثار دیکھے ہیں۔

یہ پودے صدیوں قبل ’لٹل آئس ایج‘ کے دوران منجمد ہوئے تھے جو کہ 1550 عیسوی سے 1850 عیسوی کے درمیان کا زمانہ ہے جب زمین کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔

ان پودوں کے نمونے جنہیں بروفائٹس کہا جاتا ہے میں نشوونما تجربہ گاہ کے ماحول میں دیکھی گئی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ موت کے بعد حیات کے تصور کا ماحول اور ماحولیاتی نظام پر دیرپا اثرات ہوں گے کہ کیسے یہ نظام ہمارے سیارے کے صدیوں پرانے منجمد شدہ ماحول کو دوبارہ زندہ کرتا ہے۔

یہ تحقیق کینیڈا کی یونیورسٹی آف البرٹا کے ایک گروپ نے کینیڈا کے برفانی آرکٹک میں واقع ٹیئر ڈروپ گلیشیئر کے علاقے میں کی جسے بعد میں نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی جانب سے سامنے لایا گیا۔

اس علاقے کے گلیشیئر بہت تیزی سے پگھل رہے ہیں اور 2004 کے بعد سے ان میں تین سے چار میٹر کی کمی ہو رہی ہے۔

اس کے نتیجے میں زمین کے وہ حصے جو صدیوں پہلے لٹل آئس ایج کے دوران برف کی تہ تلے دب گئے تھے اب پہلی بار سورج کی روشنی حاصل کر رہے ہیں۔

محققین کے گروپ کی سربراہی کرنے والی کیتھرین لا فارج کا کہنا ہے کہ ’ہم اس گلیشیئر کے کنارے پر پہنچے اور ہم نے دیکھا کہ گلیشیئر کے نیچے سے بڑی تعداد میں پیداوار تھی جس کا رنگ سبزی مائل تھا۔‘

بروفائٹس زمین پر موجود اس زمانے کے پودوں سے مختلف ہیں کیونکہ ان میں وسکیولر بافتیں یا ٹشو نہیں ہوتے ہیں جس کی مدد سے پودے کے مختلف حصوں میں مختلف مادے داخل کیے جاتے ہیں۔

یہ پودے شدید برفانی حالات میں عرصہ دراز تک زندہ رہ سکتے ہیں اور جب گرم موسم آئے تو ان میں دوبارہ نشوونما شروع ہوتی ہے۔

لافارج کا کہنا ہے کہ ’جب ہم نے ان کو تفصیل سے دیکھا اور انہیں تجربہ گاہ لے کر آئے میں نے دیکھا کہ بعض پودوں میں شاخیں اور بڑھوتری نظر آ رہی تھی۔ جس کا نتیجہ میں نے یہ نکالا کہ یہ پودے اب اپنے آپ کو دوبار زندہ کر رہے ہیں اور یہ میرے لیے بہت حیران کر دینے والی بات تھی۔‘

’اگر آپ ان برف کی تہوں کو دیکھیں جنہوں نے زمین پر پرت کی طرح تہ لگائی ہوئی تھی اور ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہ پودے رفیوجیا سے آئے تھے جو یہ برفانی نظام کی حدوں پر موجود ہوتے ہیں مگر ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ گلیشیئر کے نیچے سے پودے نشوونما پائیں گے۔‘

اس گلیشیئر کے پگھلنے سے یہ نئی دنیا سائنسدانوں کے سامنے آ رہی ہے جو کہ پہلے ان میں سے کسی نے نہیں دیکھی تھیں بلکہ ان میں سے بہت سی ایسی اقسام ہیں جو سائنس کے لیے ہی بالکل نئی ہیں۔

لافارج نے کہا کہ ’یہ ایک بالکل نئی دنیا ہے جو اس برف کے نیچے سے سامنے آرہی ہے اور اس پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ چونکہ گلیشیئر بہت تیزی سے پگھل رہے ہیں اس لیے یہ سبزہ جو سامنے آ رہا ہے اس کے ماحول پر بہت بڑے اثرات ہوں گے۔‘

اسی بارے میں