اٹاری کی ای ٹی ویڈیو گیم کی تلاش شروع

کینیڈا کے ایک فلم سٹوڈیو امریکی ریاست نیو میکسیکو میں مدفون سٹیون سپیل برگ کی فلم ای ٹی پر بنائی گئی اٹاری کمپنی کی ویڈیو گیم کو تلاش کرے گا۔

فیول انٹرٹینمٹ نے اس تلاش کی تصدیق بی بی سی کو کی ہے۔ فیول انٹرٹینمٹ نے آلمو گوردو شہر میں کھدائی کی اجازت لے لی ہے اور وہ اس پروجیکٹ کے لیے سرمایہ جمع کر رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ 1983 میں ویڈیو گیم بنانے والی کمپنی اٹاری نے اس ویڈیو گیم کی لاکھوں کاپیاں نیو میکسیکو کے اس علاقے میں کنکریٹ کے نیچے دفنائی تھی۔

اٹاری نے کبھی بھی اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس نے ویڈیو گیمز کو وہاں دفنایا اور وہاں جب کئی ٹرک پہنچے تھے تو صحافیوں کو وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

فیول انٹرٹینمنٹ کو جس کے دفاتر کینیڈا اور لاس انجلیس میں ہیں اس تلاش میں چھ مہینے لگیں گے جو اس وقت ختم ہو گی جب اس گیم کی تیسویں سالگرہ کا موقع ہوگا۔

فیول انٹرٹینمنٹ کے چیف ایگزیکٹیو مائیک برنز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ای ٹی پہلے آنے والے ویڈیو گیمز میں سے ایک ہے۔ آلمو گوردو شہر میں کھدائی کی اجازت ملنے کے بعد ہم کام کرنے کے لیے تیاری کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے یہ بات تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ شاید ان کی کوشیں رائیگاں جائیں ’ہم نہیں معلوم کہ ہمیں کیا ملے گا لیکن یہ تلاش دلچسپ ہوگی۔‘

یہ پہلی لائسنس شدہ ویڈیو گیم تھی جو ایک فلم فرنچائز سے لی گئی تھی اور جو سٹیون سپیل برگ کی فلم ای ٹی پر مبنی تھی۔

فلم کی کامیابی کے باوجود یہ گیم بری طرح ناکام ہوگئی اور اٹاری کو اس سے شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

یہ گیم اٹاری کے لیے 1983 میں جاری کر دی گئی تھی لیکن اس اکثر کاپیاں واپس کر دیں گئیں اور اس گیم پر بہت برے تبصرے سامنے آئے تھے۔

اس کے تھوڑے عرصے کے بعد ہی ویڈیو گیم کو پوری صنعت پر زوال آنا شروع ہوا کیونکہ کیونکہ کمپیوٹر عام ہونا شروع ہو گئے تھے۔