سوچ سے چلنے والا ہیلی کاپٹر

Image caption ہیلی کاپٹر صرف سوچ کی طاقت سے اڑ کر رکاوٹوں کو عبور کر رہا ہے

سائنس دانوں نے ایک ایسا ہیلی کاپٹر جو صرف سوچ کی طاقت سے رکاوٹوں کے درمیان سے اڑ کر نکل سکتا ہے۔

یہ تجربہ ان کوششوں میں شامل ہے جن میں دماغ کے اندر پیدا ہونے والے سوچ کے الیکٹرک سگنلوں کو باہر کی دنیا میں چیزوں کو حرکت دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس کا فائدہ ایک طرف تو دماغی بیماری کے شکار افراد کو ہو گا، تو دوسری جانب اس سے جدید ترین ویڈیو گیمز بھی بنائی جا سکیں گی۔

یہ تحقیق جرنل آف نیورل انجینیئرنگ میں شائع ہوئی ہے اور اس میں دماغ کے اندر کوئی چیز داخل نہیں کی جاتی بلکہ سر کے اوپر ایک مخصوص قسم کی ’ٹوپی‘ پہنائی جاتی ہے جو دماغ کی الیکٹریکل سرگرمی سے فائدہ اٹھاتی ہے۔

سائنس فکشن میں ایسی مشینیں دکھائی جاتی ہیں جو دماغ ’پڑھ‘ سکتی ہیں، یہ ٹوپی دماغ پڑھ تو نہیں سکتی، البتہ اس میں دماغ کی الیکٹرک سرگرمی، یا ای ای جی، کے پیٹرن کو شناخت کر کے اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ الیکٹرک سرگرمی سوچیں پیدا کرتی ہے۔

اس طرح کی سوچیں اس آلے کی مدد سے ہیلی کاپٹر کی حرکت میں منتقل کر دی جاتی ہیں۔ مثلاً اگر بائیں ہاتھ سے مٹھی بنائی جائے تو ہیلی کاپٹر بائیں طرف مڑ جاتا ہے۔

ای ای جی بڑی حد تک منتشر اور ناقابلِ فہم سگنلوں پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن جو سگنل ہو جسم کے کسی حصے میں حرکت پیدا کرتے ہیں وہ نسبتاً زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔

اس قسم کی سوچوں کو پہلے ہی ویل چیئر چلانے اور دنیا کا پہلا ’دماغی آرکسٹرا‘ تخلیق کرنے کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے۔

اور تو اور، ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اس تصور میں کشش محسوس کرتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سیم سنگ ایک ایسی ٹیبلٹ پر کام کر رہی ہے جسے دماغ سے چلایا جا سکے۔

اگر دماغ کے اندر آلات نصب کیے جائیں تو اس سے مزید کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر ایسے امپلانٹ بنائے گئے ہیں جو لوگوں کو کمپیوٹر کا کرسر محض سوچ سے چلانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کی مدد سے مکمل طور پر مفلوج مریض مشینی بازو کو حرکت دے سکتے ہیں۔

امریکہ کی منی سوٹا انسٹی ٹیوٹ آف انجینیئرنگ اِن میڈیسن کے ڈائریکٹر بن ہی کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم خاصے عرصے سے ہیلی کاپٹر کے منصوبے پر کام کر رہی تھی۔

حالیہ تجربے کے لیے انھوں نے پانچ شرکا کا انتخاب کیا جنھیں سر پر ایسی ’ٹوپیاں‘ پہنائی گئی جس میں 64 الیکٹروڈ لگے ہوئے تھے جو ایک کمپیوٹر سے منسلک تھے۔ کمپیوٹر کو سکھایا گیا کہ وہ حرکت سے متعلق سوچ کے پیٹرن سمجھ سکے۔ جیسے ہیلی کاپٹر کو دائیں بائیں موڑنے کے لیے دائیں یا بائیں مٹھی بھینچنا، دونوں مٹھیوں کو بیک وقت بھینچ کر ہیلی کاپٹر کو اوپر اٹھانا، اور اسے نیچے لے جانے کے لیے کچھ نہ کرنا۔

ہیلی کاپٹر کمپیوٹر سے بذریعہ وائی فائی منسلک تھا، اور اسے صرف شرکت کنندہ کی سوچیں کنٹرول کر رہی تھیں۔

ہیلی کاپٹر نے یونیورسٹی کے جمنازیم میں رکاوٹوں کو کامیابی سے عبور کیا، اور شرکا کی کامیابی کا تناسب 90 فیصد تک رہا۔

پروفیسر ہی کہتے ہیں: ’اس کا سب سے بڑا اطلاق مفلوج مریضوں کو فائدہ پہنچانا ہے جو اپنے جسم کو ہلا جلا نہیں سکتے۔‘

انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا، ’ہم ایسی ٹیکنالوجی تخلیق کرنا چاہتے ہیں جس کی مدد سے کوئی انسان ویل چیئر استعمال کر سکے یا ٹیلی ویژن چلا سکے۔ اور میرا خواب ہے ایسی ٹیکنالوجی ہو جس کے تحت کوئی شخص محض نیت سے کسی مصنوعی عضو کو قدرتی طریقے کو استعمال کر سکے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’دماغ اور کمپیوٹر کے امتزاج کی ٹیکنالوجی آخرِ کار نہ صرف مفلوج مریضوں کے کام آ سکے گی بلکہ اس سے صحت مند افراد بھی فائدہ اٹھا سکیں گے ۔۔۔ وہ صرف کسی کھوئی ہوئی صلاحیت ہی کو بحال نہیں کریں گے بلکہ عام صلاحیتوں سے کہیں آگے بڑھ سکیں گے۔‘

اسی بارے میں