کیوروسٹی ماؤنٹ شارپ کی جانب روانہ

Image caption انجینئرز نے کیوروسٹی کو آئندہ چند ہفتوں میں ماونٹ شارپ پہاڑی کی طرف لے جانے کا منصوبہ بنایا ہے

امریکی خلائی ایجنسی ناسا مریخ پر بھیجے جانے والے روبوٹ کیوروسٹی کو بالآخر گیل نامی گڑھے میں تحقیقی مرکز کی طرف لے جانے کا سوچ رہی ہے۔

کیوروسٹی نے گذشتہ چھ مہینے ایک چھوٹے گڑھے میں پتھروں میں ڈرلنگ کرکے ان کے اجزا کا تجزیہ کرتے گزارے ہیں۔

لیکن ناسا کا کہنا ہے کہ کیوروسٹی جلد ہی اپنی موجودہ جگہ سے آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ماونٹ شارپ نامی پہاڑی کی طرف روانہ ہو جائے گی۔

اس لمبی چوٹی پر پہنچنا کیوروسٹی کے مشن کا بنیادی مقصد ہے جہاں اسے مریخ کے ماحولیاتی تاریخ کے بارے میں معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔

انجینئرز نے کیوروسٹی کو آئندہ چند ہفتوں میں ماؤنٹ شارپ پہاڑی کی طرف لے جانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

کیوروسٹی کے پروجیکٹ مینیجر جم اریکسن کا کہنا ہے ’ہم دریافت کے لیے ایک مشن پر ہیں۔ اگر ہمیں راستے میں سائنسی تحقیق کے لحاظ سے کوئی دلچسپ علاقہ ملتا ہے تو ہم وہاں مطالعے کے لیے رکیں گے۔‘

کیوروسٹی کو اپنے سفر پر روانے ہونے سے پہلے کچھ کام ختم کرنے ہیں۔

اس روبوٹ پر واقع تجربہ گاہ میں یلو نائف بے سے ملنے والے کمبرلینڈ نامی پتھروں سے لیے گئے نمونوں کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

ان نمونوں کے تجزیے سے جان کلائن نامی پتھروں سے لی گئی معلومات کی تصدیق ہوگی۔

کمبرلینڈ پتھروں کے تجزیے سے معلوم ہوا تھا کہ یہ پتھر اربوں سال پہلے ایک جھیل میں پڑے تھے۔

کیوروسٹی کے لیبارٹری میں تجربات تو ہو رہے ہیں لیکن یہ کچھ دوسرے پتھروں کی طرف چل پڑی ہے جو اسے یلو نائف بے کے راستے میں دکھائی دیے تھے۔

یہ پتھر پوائنٹ لیک کے نام سے جانے جاتے ہیں جو سویز چیز کی طرح سوراخ دار دکھائی دیتے ہیں۔ سائنس دانوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ پتھر آتش فشاں کے لاوے سے بنے ہیں یا قدرتی طور پر پانی کی حرکت سے وجود میں آئے ہیں۔

Image caption پوائنٹ لیک کے نامی پتھر سویز چیز کی طرح سوراخ دار دکھائی دیتے ہیں

کیوروسٹی کے ڈپٹی پروجیکٹ سائنسدان ڈاکٹر جوئے کریسپ نے کہا ’ایک خیال یہ ہے کہ یہ لاوا کے بنے ہونگے جس کے اندر سوراخ دوسرے معدنیات سے بھر گئے ہونگے۔ یہ ایک امکان ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’دوسرا امکان یہ ہے کہ یہ سیڈی مینٹری پتھر کی طرح کسی اور قسم کے بڑے پتھر ہوں۔‘

مشن کی ٹیم یہ بھی چاہتی ہے کہ وہ شالر نامی ایک اور ابھار کا ایک بار پھر معائنہ کریں۔

کیوروسٹی کا ایک آخری کام اپنے نیچے میدان کا ڈان نامی اوزار سے سروے کرنا ہے۔

جب یہ سب کام ختم ہو جائیں گے تو کیوروسٹی جنوب مغرب میں واقع ماؤنٹ شارپ کی طرف روانہ ہو جائے گی۔

انجنیئرز سیٹیلائٹ تصویروں کے ذریعے کیوروسٹی کے لیے محفوظ راستے کا نقشہ تیار کر رہے ہیں جبکہ ریسرچرز راستے میں سائنسی لحاظ سے دلچسپ جگہوں کی تلاش کر رہے ہیں جہاں کیوروسٹی رک سکے۔

اسی بارے میں