دس ہزار ڈیوائسز کی معلومات مانگی گئیں: ایپل

Image caption اخبارات نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی خفیہ ادارے ٹیکنالوجی کمپنیوں سے صارفین کی معلومات حاصل کرتے ہیں

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے امریکی حکام کی جانب سے صارفین کے ڈیٹا کے حصول کی درخواستوں کی تفصیلات شائع کر دی ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے دسمبر اور مئی کے درمیان نو ہزار سے دس ہزار اکاؤنٹس یا ڈیوائسز کے بارے میں معلومات دینے کے مطالبات کیے گئے تھے۔

اپیل نے کہا ہے کہ ان مطالبات میں دوسری چیزوں کے علاوہ ’اہم سکیورٹی معاملات‘ کے بارے میں مطالبات بھی شامل تھے۔

مائیکروسافٹ اور فیس بک نے گذشتہ ہفتے ایسے ہی اعداد و شمار جاری کیے تھے۔ تاہم گوگل اور ٹوئٹر نے کہا ہے کہ اس قسم کے انکشافات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

جب سے برطانوی اخبار گارڈین اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ’پرزم‘ نامی پروگرام کا انکشاف کیا ہے، اس کے بعد سے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ ہے کہ وہ بتائیں کہ انھوں نے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کو کیا معلومات فراہم کی ہیں۔

پرزم کے تحت امریکی ادارہ این ایس اے مائیکروسافٹ، یاہو، گوگل، فیس بک، پیل ٹاک، اے او ایل اور ایپل کے سروروں پر موجود ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

این ایس اے نے نگرانی کے اس پروگرام کے علاوہ فون ریکارڈ کے کرنے کے ایک الگ پروگرام کی بھی تصدیق کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس پروگرام سے امریکہ اور 20 دوسرے ممالک میں دہشت گردی کے منصوبوں کا توڑ کرنے میں مدد ملی ہے۔

ایپل نے ایک بیان میں کہا: ’ہمیں سب سے پہلے ’’پرزم‘‘ پروگرام کے بارے میں چھ جون کو اس وقت پتا چلا جب میڈیا نے ہم سے اس بارے میں پوچھنا شروع کیا۔

’ہم کسی سرکاری ادارے کو اپنے سرورز تک براہِ راست رسائی فراہم نہیں کرتے، اور کسی بھی ادارے کو ہمارے کسی صارف کے مواد تک رسائی کے لیے عدالتی حکم حاصل کرنا ہو گا۔‘

کمپنی نے مزید کہا کہ یکم دسمبر 2012 سے 31 مئی 2013 تک اسے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے چار تا پانچ ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں نو سے دس ہزار تک اکاؤنٹس یا ڈیوائسز تک رسائی بھی شامل تھی۔

تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے حکومت کو کتنا ڈیٹا فراہم کیا۔

ایپل نے کہا کہ درخواستوں کی سب سے عام قسم پولیس سے آئی جو ڈاکوں کی تفتیش، گمشدہ بچوں کی تلاش، ایلتس ہائمر کے مریضوں کی مدد، یا خودکشی روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔

کمپنی نے کہا ہے کہ وہ آئی میسج اور فیس ٹائم پر ہونے والی انکرپٹڈ گفتگو کو ڈی کوڈ نہیں کر سکتی، اور نہ ہی ایپل میپ یا سِری پر کی جانے والی سرچز سے متعلق ڈیٹا محفوظ رکھتی ہے۔

کمپنی نے کہا: ’صورتِ حال سے قطع نظر، ہماری قانونی ٹیم ہر درخواست کا جائزہ لیتی ہے اور اگر مناسب ہو تو حکام کو محدود ترین معلومات فراہم کرتی ہے۔‘

اسی بارے میں