بازگشت سے کمرے کی شکل معلوم کی جا سکتی ہے

Image caption کلیسا کی دیواروں سے ٹکرانے والی بازگشت سے اس کی شکل معلوم کی جا سکتی ہے

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کمرے کی شکل آواز کی بازگشت سے معلوم کی جا سکتی ہے۔

جیسے چمگادڑیں آواز کی بازگشت سے راستہ معلوم کرتی ہیں، ایسے ہی سائنس دان آوازوں کو کمپیوٹر میں ڈال کر ان کی مدد سے کمرے کی شکل معلوم کر سکتے ہیں۔

سائنس دانوں کی ٹیم نے چار مائیکروفون استعمال کر کے کمرے کی دیواروں سے آنے والی بازگشت کی مدد سے کمرے کی مکمل تھری ڈی تصویر بنا لی۔

سائنسی جریدے پی این اے ایس میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں سائنس دانوں نے کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے جرائم حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

صوتی لہروں کے انعکاس سے راستہ معلوم کرنے کی صلاحیت کو ’ایکو لوکیشن‘ کہا جاتا ہے اور یہ صلاحیت چمگادڑوں اور ڈولفن میں موجود ہوتی ہے۔ بعض نابینا افراد کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ وہ بھی اس صلاحیت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔

لیکن اب کمپیوٹر پروگرام کی مدد سے آواز کی مدد سے کمرے کی شکل معلوم کی جا سکتی ہے۔

مختلف اشیا سے بنی دیواریں آواز کو مختلف طریقے سے منعکس کرتی ہیں۔ اسی طرح آواز مختلف اشیا سے ٹکرا کر مختلف اوقات میں پہنچتی ہے۔ اسی فرق کو معلوم کر کے اس سے کمرے کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

سوئٹزلینڈ کے ادارے ای پی ایف ایل کے ایوان ڈوکمینک نے کہا: ’ہمارا سافٹ ویئر ایک سادہ کمرے کی ایسی تصویر بنا سکتا ہے جو چند ملی میٹر کے اندر اندر بالکل درست ہوتی ہے۔‘

ڈوکمینک نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ اس تحقیق کے کئی ممکنہ استعمال موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کنسرٹ ہال کے نقشہ ساز اس کی مدد سے عمارت تعمیر کرتے ہوئے بالکل ویسا ہال بنا سکتے ہیں جس کی انھیں ضرورت ہو۔

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ یہ تحقیق ایسے جرائم کا معما حل کرنے میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے جہاں آواز کو شہادت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہو۔ مثال کے طور پر کسی نامعلوم مقام پر ریکارڈ کی جانے والی آواز کی مدد سے اس مقام کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں