خلائی جہاز’کاسینی‘سے زمین کی تصویر

Image caption خلائی جہاز ’کاسینی‘ سے سیارہ زحل کی تصویر سنہ 2006 میں لی گئی

امریکی خلائی ادارے ناسا کا ایک خلائی جہاز ’کاسینی‘ خلا سے زمین کی تصویر لے گا۔

یہ خلائی جہاز سیارہ زحل اور اس کی مدار کی تصاویر لیتے ہوئے زمین کی بھی تصویر لے گا اور 19 جولائی کو زمین کی لی جانی والی یہ تصویر تقریباً ایک ارب میل کے فاصلے سے لی جائےگی۔

’کاسینی‘ کی کیمرہ ٹیم کے سربراہ کیریلون پارکو پرامید ہیں کہ یہ تصویر زمین کی ’ ہلکے نیلے نقطے‘ والی تصویر کی یاد تازہ کر دے گی۔

زمین کی ہلکے نیلے نقطوں والی تصویر سنہ 1990 میں وائجر ون سے لی گئی تھی۔

کیریلون پارکو کہتی ہیں کہ اس موقع پر سب سے واضع فرق یہ ہے کہ لوگوں کو پہلے سے معلوم ہو سکے گا کہ ان کی تصاویر نظامِ شمسی کے باہر سے بھی لی جا سکیں گی۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا’لوگ اس میں شامل ہو کر اس سے محظوظ ہو سکتے ہیں اور یہ سیاروں کے درمیان موجود کائنات کا تصویری سیشن ہو گا‘۔

وہ کہتی ہیں ’لوگ اس حقیقت سے محظوظ ہو سکتے ہیں کہ ایک ارب میل کے فاصلے پر ایک ربورٹ ہے جو اُن کی تصویر لے رہا ہے۔کیا یہ زبردست نہیں ہے؟‘

زمین کو دیکھنے سے پہلے ’کاسینی‘ نے نظام شمسی میں موجود سیارے زحل کا معائنہ کیا اور اُس کی تصاویر لیں۔

لیکن اب ڈاکٹر پارکو ’کاسینی‘ کے اگلے مشن کے لیے ایسے موقع کی تلاش میں ہیں جب بہترین فلٹر استعمال کر کے زمین کی تصویر اس کے اپنے قدرتی رنگ میں لے جا سکے۔

سنہ 2006 میں کاسینی نے نظام شمسی میں موجود سیاروں کی تصویر لی جو اب تک سیٹلائیٹ سے لی جانے والی تصویروں سے زیادہ مشہور ہے۔

اس تصویر میں مشتری کے گرد ایک دھندلا مدار دیکھا جا سکتا ہے یہ دھبہ بہت چھوٹا ہے جو زمین سے دیکھا نہیں جا سکتا جبکہ تصویر میں سیارے کے اندر مدھم مدار بھی دکھائی دیا۔

ڈاکٹر پارکو کو یقین ہے کہ ہائی ریزولیشن کیمرے کی مدد سے زمین کی لی جانے والی تصویر سنہ 2006 کی تصویر سے بہتر ہو گی۔

ناسا کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2017 تک زحل کے تحقیقاتی مشن اور ’کاسینی‘ کو ختم کر دے گا تاہم حکومتی ایجنسیوں کی جانب سے فنڈ میں کمی کے باعث اسے پہلے بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔

’کاسینی‘گزشتہ 9 سالوں سے سیارہ زحل پر ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی سیکھنے کے لیے بہت کچھ باقی ہے اور سائنسدان ’کاسینی‘ کے باقی ماندہ وقت میں مزید تدابیر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جو گزشتہ برسوں میں کیے جانے والے مشنز کے مقابلوں میں خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ان مشنز میں زحل اور اُس کے گرد مدار کے درمیان غوطہ زنی بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر پارکو کہتی ہیں’یہ کرنے کے لیے کافی عجیب ہے لیکن یہ ہمیں مدار کی ہائی ریزولوشن کا جائزہ دے سکتا ہے اور ہم اس کی پیمائش کرنا چاہتے ہیں کہ یہ مدار کتنی بڑا ہے؟‘

خلائی جہاز ’کاسینی‘سے 19 جولائی کو لی جانے والی زمین کی تصاویر قریب اور فاصلے دونوں زاویوں سے لیں جائیں گی۔ تصاویر لینے کے اوقات میں شمالی امریکہ اور بحر اوقیانوس کے بعض علاقوں میں روشنی ہو گی۔ زمین اور چاند کے روشن حصے اصل عکس سے ایک پکسل کے فاصلے پر ہوں گے۔

اسی بارے میں