چینی خلاباز نے خلا سے پہلا لیکچر دیا

Image caption وانگ لٹو کی مدد سے گردشی حرکت کے اصول بیان کر رہی ہیں

چین کی دوسری خاتون خلاباز وانگ یاپنگ نے پہلی بار خلا سے ویڈیو کے ذریعے لیکچر دیا ہے۔

طلبہ سے لائیو ویڈیو خطاب کے دوران وانگ نے لٹو، گیند، پانی اور ایک ساتھی خلاباز کی مدد سے کششِ ثقل سے عاری ماحول میں فزکس کے اصول بیان کیے۔

وہ تیان گونگ 1 نامی خلائی تجربہ گاہ سے بات کر رہی تھیں، جہاں شینزو خلائی جہاز ٹھہرا ہوا ہے۔ شینزو 10 چین کا پانچواں انسان بردار خلائی مشن ہے، اور یہ 25 یا 26 جون کو اختتام پذیر ہو گا۔

یانگ نے مختلف تجربات کی مدد سے خلا میں وزن اور کمیت کے تصورات اجاگر کیے۔

انھوں نے دکھایا کہ خلا میں عام ترازو کام نہیں کرتی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک خاص ترازو کی مدد سے نیوٹن کا دوسرا قانونِ حرکت استعمال کرتے ہوئے قوت اور اسراع کی مدد سے اپنے ساتھی خلاباز نائی ہاشنگ کا وزن کیا۔

ایک موقعے پر انھوں نے یہ دکھانے کے لیے کہ اشیا کم کششِ ثقل والے ماحول میں کیسے حرکت کرتی ہیں، اپنے ساتھی سے کہا کہ وہ انھیں 90 درجے اور پھر 180 درجے کے زاویے پر گھمائیں۔

انھوں نے گھومتے ہوئے لٹو کی مدد سے خلا میں گردشی حرکت پیدا کی، اور رسی سے منسلک گیند سے پنڈولم کی حرکت بیان کی گئی۔

کلاس کے اختتام پر وانگ نے لوہے کے چھلے کی مدد سے پانی کی پتلی جھلی بنائی، اور بتایا کہ خلا میں مائعات کا سطحی تناؤ (surface tension) بڑھ جاتا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے جب پانی کی اس جھلی پر مزید پانی ڈال کر اسے گیند کی شکل میں تبدیل کر دیا تو چینی طلبہ نے تالیاں بجائیں۔

سرکاری میڈیا نے بتایا کہ 330 پرائمری اور مڈل سکولوں کے طلبہ نے یہ لیکچر بیجنگ کے ایک مخصوص کمرۂ جماعت سے دیکھا، جہاں وہ وانگ سے ویڈیو کے ذریعے سوال بھی کر سکتے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں وانگ نے بتایا کہ انھیں خلا سے کیا نظر آتا ہے: ’ستارے کہیں زیادہ روشن ہیں، لیکن وہ جھلملاتے نہیں ہیں۔‘ اس کی وجہ انھوں نے یہ بیان کی کہ وہاں زمین کے اوپر موجود ہوا کی پرت موجود نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ’آسمان نیلا نہیں بلکہ سیاہ ہے۔ ہر روز ہم 16 بار طلوعِ آفتاب دیکھتے ہیں کیوں کہ ہم ہر 90 منٹ بعد زمین کے گرد ایک چکر مکمل کر لیتے ہیں۔‘

چینی وزارتِ تعلیم نے کہا کہ چین بھر میں چھ کروڑ کے لگ بھگ طلبہ اور اساتذہ نے یہ لیکچر براہِ راست دیکھا۔

اسی بارے میں