ویاگرا کے حقوق ختم، اب پہلے سے سستی

Image caption ویاگرا انیس سو اٹھانوے سے بازار میں دستیاب ہے اور اس کی سالانہ فروخت دو ارب ڈالر کے قریب ہے

قوت باہ یا جنسی قوت بڑھانےکی مشہور دوا ویاگرا کو بنانے کے جملہ حقوق ختم ہونے کے بعد اب اسے دوسری کمپنیاں بھی تیار کر سکیں گی۔

ہیرے کی ساخت جیسی نیلے رنگ کی ویاگرا گولی جنسی قوت بڑھانے کا ایک انقلابی علاج بھی ہے۔

ویاگرا کو پندرہ سال قبل متعارف کرایا گیا تھا اور امریکی تاریخ میں تیزی سے فروخت ہونے والی دوا بن گئی۔

اس وقت چند ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اس دوا کو تجویز کر کر کے ان کے بازوں اکٹر گئے ہیں۔

لیکن اب ویاگرا بنانے والی کمپنی فائزر کے حقوق یا پیٹنٹ ختم ہو گئے ہیں اور اب ادویات بنانے والی دوسری کمپنیاں ویاگرا میں استعمال ہونے والے کیمیائی مرکب سیلڈنفل سائٹریٹ کے تحت اپنی ادویات تیار اور فروخت کر سکیں گے۔ اس کیمیائی مرکب کو ویاگرا کے نام سے فروخت کیا جاتا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ ویاگرا کی قمیت دس پاؤنڈ فی گولی سے کم کر ایک پاؤنڈ سے بھی کم ہو جائے گی۔

فائزر کو اب بھی امریکہ میں سات سال کے لیے ویاگرا فروخت کرنے کے حقوق حاصل ہیں لیکن یہ برطانیہ میں ویاگرا کی ایک عام قسم متعارف کرا رہی ہے۔

فائزر نےسیلڈنفل نامی کیمیائی مرکب سائنسدانوں نے کینٹ کے تحقیقاتی مرکز میں تیار کیا تھا۔ اس کو تیار کرنے کا مقصد ہائی بلڈ پریشر کا علاج کرنا تھا لیکن تجرباتی مراحل میں ایک غیر متوقع انکشاف ہوا کہ اس دوا کے استعمال سے عضو تناسل میں خون کی گردش بڑھنے سے قوت باہ میں اضافہ ہوتا ہے۔

فٹبال کے مشہور کھلاڑی پیلے کو عضو تناسل کے مسائل کے حوالے سے مہم چلانے کی قیادت دی گئی اگرچہ انہوں نے ایک اخبار کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی جنسی صحت اب بھی بہتر ہے اور انہیں خود گولی کے استعمال کی ضرورت نہیں ہے۔

برطانیہ میں فائزر کے مینجینگ ڈائریکٹر جون ایمس کے مطابق’ ویاگرا نے عضو تناسل کے کھڑا نہ ہونے کے داغ کو ختم کیا اور ایسی پہلی دوا ہے جو مریض دوست ہے‘۔

’اس نےمعین عمر تک مردوں کی حوصلہ افزائی کی، جو اپنے معالج کے پاس نہیں جاتے تھے اور ان سے بات نہیں کرتے تھے، اس سے دوسرے مسائل کے نشاندہی اور ان کا علاج ہوا۔‘

ویاگرا اب بھی فائزر کو سالانہ تقریباً دو ارب ڈالر کا کاروبار دیتی ہے اور کمپنی کی فروخت کے لحاظ سے چھٹی بڑی دوا ہے۔

سیلڈنفل کو حقوق کے بغیر عام فروخت کرنے کے بعد کیا ہو گا؟

لائیڈز فارمیسی کے آن لائن ڈاکٹر ٹام بریٹ کے مطابق’ فروخت میں اضافہ ہو گا کیونکہ دوا پہلے سے زیادہ سستی ہو جائے گی‘۔

’اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی امید ہے کہ غیر قانونی ویب سائٹس کے ذریعے اس کی فروخت میں کمی ہو گی، سینکڑوں کی تعداد میں ویب سائٹس بند ہو چکی ہیں اور گزشتہ سال اڑسٹھ ہزار غیر قانونی گولیوں کو قبضے میں لیا گیا‘۔

ویاگرا زیادہ تر نجی طور پر خریدی جاتی ہے۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس نے ویاگرا کو تجویز کرنے کے لیے ایک سخت معیار مقرر کر رکھا ہے۔

ڈاکٹر ٹام بریٹ کے مطابق یہ ضروری ہے کہ مرد اسے ایک قابل اعتماد ذرائع سے حاصل کریں تاکہ دوا جعلی نہ ہو، اور اگر وہ دوسری ادویات کا استعمال کر رہے ہیں تو انہیں بہتر ہدایات دی جا سکیں۔

اسی بارے میں