کیا ہم خود کو زیادہ خوش رکھ سکتے ہیں؟

ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں ’ورلڈ ہیپينیس ڈیٹا بیس‘ یعنی عالمی خوشی کے اعدادوشمار کے مطابق خوشی میں اضافہ ممکن ہے اور ہم خود کو زیادہ خوش رکھ سکتے ہیں۔

دنیا بھر سے یکجا کیے گئے اعداد و شمار پر مبنی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ ہم جہاں خوشیاں تلاش کر رہے ہوں ان راہوں پر خوشیاں نہ ہوں۔

روٹرڈیم کی ایراسمس یونیورسٹی میں سماجی حالات اور انسانی مسرت کے پروفیسر امیریٹس اور ڈیٹا بیس کے ڈائریکٹر پروفیسر روٹ وين ہاون کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے مطالعہ میں لوگوں کے اہداف اور اس کے نتیجے میں ان کی خوشی کے ذکر میں منفی تعلق پایا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’عام طور پر بھلے ہی یہ سمجھا جاتا کہ خوشحال زندگی گزارنے کے لئے کسی ہدف کا ہونا ضروری ہے لیکن اس بارے میں متفرق آراء نظر آتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ کئی بار اداس افراد اپنے اہداف کے تئیں زیادہ بیدار ہوتے ہیں کیونکہ خوشی کے حصول کے لیے وہ اپنی زندگی کو بدلنا چاہتے ہیں۔‘

اس تحقیق کا سب سے منفرد نتیجہ شاید یہ ہے کہ زندگی میں معنی تلاش کرنے اور خوش رہنے کے درمیان بظاہر کوئی تعلق نہیں ہے۔

پروفیسر وین ہاون کا کہنا ہے: ’مجھے حیرت ہے کہ ہمیں ان دونوں میں کوئی تعلق نظر نہیں آیا۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے خوشی کا سب سے مضبوط تعلق ایک فعال زندگی سے ہے۔‘

ان کا کہنا ہے: ’ایک خوشحال اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ فعال رہیں۔ خوشی کے لیے سرگرمی اور فعالیت زیادہ ضروری ہے بہ نسبت اس کے کہ یہ کیسے ہے اور ہم ایسے کیوں ہیں۔‘

اس ڈیٹابیس کی سب سے اچھی خبر یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو مزید خوشیوں بھری بنا سکتے ہیں اور اس کے بیرونی محرکات میں صرف پیسہ ہونا ضروری نہیں ہے۔

وين ہاون کا کہنا ہے کہ ’تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہم خود کو خوش رکھ سکتے ہیں کیونکہ خوشی بھی وقت کے ساتھ بدلتی ہے۔ یہ تبدیلی صرف بہتر حالات کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ زندگی کو متوازن طریقے سے گزارنے سے بھی آتی ہے۔ بزرگ اور معمر لوگ نسبتا زیادہ عقلمند ہونے کی وجہ سے بھی خوش رہتے ہیں۔‘

ڈیٹا بیس کی تحقیق کے مطابق آپ اس وقت زیادہ خوش ہو سکتے ہیں جب:

  • آپ کسی کے ساتھ طویل عرصے تک رشتہ قائم رکھیں
  • جب آپ سیاست میں سرگرم ہوں
  • کام اور فرصت کے اوقات میں بھی سرگرم رہیں
  • ڈنر کے لئے باہر جاتے ہوں
  • کسی کے ساتھ گہری دوستی ہو (اگرچہ دوستوں کی تعداد سے خوشی میں اضافے کا تعلق نہیں ہے)

تحقیق کے مطابق کچھ حیرت انگیز نتائج یہ بھی ہیں:

  • جو لوگ میانہ روی کے ساتھ شراب نوشی کرتے ہیں وہ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ خوش رہتے ہیں جو بالکل نہیں پیتے۔
  • مرد اس معاشرے میں زیادہ خوش رہتے ہیں جہاں خواتین کو زیادہ مساوی حقوق حاصل ہوتے ہیں
  • کسی مرد کی خوشی میں اس بات سے زیادہ اضافہ ہوتا خوش شکل تصور کیا جاتا ہے جبکہ خواتین کو اس بابت ان سے کم خوشی کا احساس ہوتا ہے۔
  • جب آپ خود کو خوبصورت تصور کرتے ہیں تو آپ اس بات سے زیادہ خوش ہوتے ہیں کہ آپ واقعی خوش شکل ہیں۔
  • بچوں کی پیدائش سے خوشی کی سطح کم ہوجاتی ہے لیکن آپ کی خوشی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب وہ بڑے ہو جاتے ہیں۔
Image caption عین ممکن ہے کہ ہم جہاں خوشیاں تلاش کر رہے ہوں ان راہوں پر خوشیاں نہ ہوں

جرمنی میں 2004 ہونے والی ایک مطالعہ میں نقل و حمل میں گزارے گئے وقت اور زندگی سے ملنے والے سکون کے درمیان گہرا تعلق پایا گیاہے۔ کام پر جانے کے لئے ایک گھنٹے تک کا وقت سفر میں گزارانے والےلوگ ان کے مقابلے میں کم خوش تھے جو یہ سفر نہیں کرتے۔

اس مطالعہ سے یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ زیادہ تنخواہ والی ایسی نوکری بھی وقت برباد ہونے کی تلافی نہیں کر سکتی جس میں آمد و رفت کی دقتیں ہوں۔

پروفیسر وين ہاون اور ان کے ساتھیوں نے لوگوں کو ایسے کام کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے جن سے ان کو خوشی ملتی ہے اور وہ اس کا ذکر آن لائن ڈائری میں بھی کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ ابھی تک 20 ہزار افراد اس کی جانب متوجہ ہوئے ہیں۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اداسی بھی مفید ہے۔ یہ لال رنگ کی ایک ٹریفک لائٹ کی طرح ہے جس سے آپ کو اپنے منفی رویے پر لگام لگانے کا اشارہ ملتا ہے۔

ڈیٹا بیس کے مطابق دنیا کے دس زیادہ خوش ممالک اس طرح ہیں:

کوسٹا ریکا، ڈنمارک، آئس لینڈ، سوئٹزر لینڈ، ناروے، فن لینڈ، میکسیکو، سویڈن، کینیڈا اور پاناما۔

اسی بارے میں