فحش ویب سائٹ کے متنازعہ اعداد و شمار

Image caption فحش ویب سائٹ کی مقبولیت یا ان پر صارفین کے جانے سے متعلق جو مشکوک اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں ان کے متعلق ٹیکنالوجی کی دنیا میں لوگوں کو پتہ بھی ہے

فحاشی سے متعلق جہاں بہت سے باتوں میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے وہیں انٹرنیٹ پر کس قدر فحاشی پائي جاتی ہے یا اس کا استعمال ہوتا ہے اس سے متعلق اعداد و شمار بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے رہے ہیں۔

ایک ایسے وقت جب برطانوی سیاست دان، میڈیا اور ماہرین میں یہ بحث چھڑی ہے کہ فحاشی کا اثر بچوں پر کیا پڑتا ہے اور اس سے نوجوان بچے جنسیات کے متعلق کیا سیکھتے ہیں، انٹرنیٹ پر اس کے مواد کا حجم اور اس تک رسائی کا صحیح اندازہ کرنا اہمیت کا حامل ہے۔

اس سے متعلق بحث کے دوران بہت سے اعداد و شمار کا حوالہ دیا گيا لیکن وہ حوالے چھان بین کے معیار پر کم ہی کھرے اترتے ہیں۔

ایک سب سے اہم نکتہ جو بار بار سامنے آتا رہا ہے وہ یہ ہے کہ مجموعی طور انٹرنیٹ کا تقریباً سینتیس فیصد حصہ فحش مودا پر مبنی ہے۔

جن افراد نے بھی اس بات کو پیش کیا تقریباً ان سب نے یہ اعداد و شمار دو ہزار دس میں نیٹ سے متعلق کمپنی ’اوپٹی نیٹ‘ کی طرف سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز کا سہارا لیا ہے۔

لیکن کمپنی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ’یہ اعداد و شمار پرانے ہیں اور میں ویب سائٹ کی حقیقت بتانے کے لیے انہیں استعمال نہیں کروں گا۔‘

اس کی وجہ یہ ہے کہ اب اس سے متعلق بہت سارا نیا ڈیٹا موجود ہے۔ نیٹ سے متعلق ایک کمپنی ’سکینڈیوین ریسرچ سینٹر سینٹیف‘ کے مطابق انٹرنیٹ پر اب تک کا جتنا بھی ڈیٹا تخلیق کیا گيا ہے اس میں سے نوے فیصد گزشتہ دو برس میں وجود میں آيا ہے۔

اس کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ ویب سائٹ میں زبردست اضافہ ہوا ہے، سمارٹ فون آئے اور سوشل میڈيانے رفتار پکڑی۔ اور اس میں بھی جو بڑا ڈیٹا سامنے آيا اس میں تجارت، حکومت اور سائنس دانوں کا ہاتھ رہا ہے۔

Image caption صرف چار فیصد فحش ویب سائٹ ہی مقبل ہیں

اس تناظر میں سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ سینتیس فیصد انٹرنیٹ فحش مواد پر مبنی ہے، سے متعلق جو اعداد و شمار پیش کیے گئے وہ صحیح ہے یا نہیں۔

اوپٹی نیٹ کا کہنا ہے کہ اس نے تقریبا چالیس لاکھ یو آر ایل کی ویٹ سائٹ سے نمائندہ سیمپل کے ذریعے وہ اعداد و شمار جمع کیے تھے۔

لیکن اسی برس سیکس سے متعلق ایک بڑے پیمانے پر کی گئی جو تحقیق شائع ہوئي اس میں اس سوال پر بالکل الگ طرح کا ڈیٹا سامنے آيا کہ سب سے مقبول ترین ویب سائٹ میں فحش ویب سائٹ کتنی ہیں۔

اس مطالعے کے مطابق مقبول ترین ویب سائٹوں میں صرف چار فیصد ہی فحش ویب سائٹ تھیں۔

دونوں کی سٹڈی کا طریقہ مختلف لیکن اس سے ایک بات کا پتہ چلتا ہے کہ فحش ویب سائٹ کا آرکیو تو بہت بڑا ہے لیکن جن صفحات کو کھولا یا دیکھا جاتا ہے وہ وہ کم ہیں۔

دو ہزار دس کی معروف تحقیق ’اے بلین وکڈ تھاٹس‘ کے مشترک مصنف اوگی اوگاس کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ویب سائٹ پر جتنے لوگ آتے ہیں اس تعداد کا شمار رکھنا اہم ہے نا کہ ویب سائٹ کے مواد کا حجم۔

ڈاکٹر اوگاس کے مطابق ’بڑے اعداد و شمار سنسنی خیز ہوتے ہیں اور پریس کے لیے اچھے۔ لیکن یہ بڑے اعداد و شمار ہمیشہ ہی ایک شہری تصور مانے جاتے ہیں۔'

Image caption جو بھی اعداد و شمار سامنے آتے ہیں اس میں غلطیوں کا احتمال ہے اور جو بھی اس طرح کا ڈیاٹا پیش کرے اس کی اچھی طرح سے چھابین ہونی چاہیے

ایک اور کمپنی ’مین ون‘ کا کہنا ہے کہ اس کے تخمینے کے مطابق تقریباً ستّر لاکھ افراد ہر روز فحش ویب سائٹ پر جاتے ہیں۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ اعداد و شمار بھی بڑھا چڑھا کے پیش کیےگئے کیونکہ فحش ویب سائٹ کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئی ایک صفحہ پر کلک کرے تو وہ دیگر کئی سائٹ خود ہی کھلنے لگتی ہے۔

یعنی ایک ویڈیو یا فوٹو پر کلک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کئی ایک دیگر سائٹیں یا صفحات خود بخودکھلنے لگتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس طرح سے جمع کیا گيا یہ ڈیٹا درست نہیں ہوسکتا کہ کتنے افراد نے کتنی سائٹ پرگئے۔

فحش ویب سائٹ کی مقبولیت یا ان پر صارفین کے جانے سے متعلق جو مشکوک اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں ان کے متعلق ٹیکنالوجی کی دنیا میں لوگوں کو پتہ بھی ہے۔

نیٹ سپلائی کے لیے معروف کمپنی آئی ایس پی اے کے سیکریٹری جنرل نیکولس لینس مین کا کہنا ہے کہ اس سے متعلق جو بھی اعداد و شمار سامنے آتے ہیں اس میں غلطیوں کا احتمال ہے اور جو بھی اس طرح کا ڈیٹا پیش کرے اس کی اچھی طرح سے چھان بین ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ آن لائن سیفٹی سے متعلق پالیسی وضع کرتے وقت شواہد کو مد نظر رکھنا ضروری ہے نہ کہ خام تصورات اور جھوٹی باتوں پر۔‘

ڈاکٹر اوگاس کا کہنا ہے کہ اگر دعویٰ سے بہت کم بھی آئن لائن پر فحش ہے تو بھی اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ’سیکس کے لیے مخصوص چار فیصد ویب سائٹ اور چودہ فیصد کا سرچ کرنا ہی بڑی اہم بات ہے اگر آپ اس پر غور وفکر کرنا بند کر دیں۔‘

اسی بارے میں