کمپیوٹر ماؤس کے موجد وفات پا گئے

کمپیوٹر ماؤس کے موجد ڈاوگ انجلبارٹ آٹھاسی سال کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔

ڈاوگ انجلبارٹ نے 1960 کی دہائی میں لکڑی کے خول اور دھات کے دو پہیوں کی مدد سے ماؤس ایجاد کیا تھا۔

انھوں نے اس آلے کو لوگوں کے عام استعمال میں آنے سے بہت پہلے پیٹنٹ کیا تھا۔

انھوں نے کیلیفورنیا کے ایک ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں ای میل، ورڈ پروسیسنگ اور ویڈیو ٹیلی کانفرنسز پر بھی ابتدائی کام کیا تھا۔

ملک کے کمپیوٹر تاریخ کے میوزیم کو ڈاوگ انجلبارٹ کی بیٹی نے ای میل کے ذریعے ان کی موت کی خبر دی۔

ان کی بیٹی نے لکھا کہ ان کے والد کی صحت خراب تھی اور وہ منگل کی رات نیند میں وفات پا گئے۔

ڈاوگ انجلبارٹ تیس جنوری 1925 میں پورٹ لینڈ اوریگن میں پیدا ہوئے تھے۔

ان کے والد ریڈیو کے میکینک تھے جبکہ ان کی والدہ گھریلو خاتون تھی۔

انھوں نے اوریگن یونیورسٹی میں الیکٹریکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور جنگ عظیم دوم میں ریڈار ٹیکنیشین کے طور پر کام کیا۔

انھوں نے پھر ناسا سے پہلے ادارے ناکا میں الیکٹریکل انجینیئر کے طور پر کام کیا لیکن جلد ہی وہ کیلیفورنیا یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے چلے گئے۔

سٹنفرڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بھی انھوں کام کیا اور پھر آگمینٹیش ریسرچ سنٹر کے نام سے اپنی لیبارٹری بنائی۔

ان کی لیبارٹری کی مدد سے اے آر پی اے نٹ بنا جو تحقیق کے لیے حکومت کا نٹ ورک ہے جس نے انٹرنٹ ایجاد کیا۔

ڈاوگ انجلبارٹ کے خیالات ان کے اپنے وقت سے بہت آگے تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کمپیوٹر اتنے بڑے ہوا کرتے تھے کہ ایک کمرے جتنا جگہ گھیرتے تھے۔

انھوں نے 1968 میں سان فرانسیسکو میں پہلی بار ماؤس کو عوام کے سامنے پیش کیا۔اسی موقع پر انھوں نے پہلی ویڈیو ٹیلی کانفرنس بھی کی اور الفاظ کی بنیاد پر رابطوں کے بارے میں اپنا نظریہ پیش کیا جو انٹرنٹ کا آرکیٹیکچر بن گیا۔

ڈاوگ انجلبارٹ نےماؤس کی فروخت سے زیادہ پیسے نہیں کمائے کیونکہ ماؤس کا استعمال عام ہونے سے پہلے 1987 میں اس کا پیٹنٹ ختم ہو گیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اب تک ایک بلین سے زیادہ ماؤس فروخت ہو چکے ہونگے۔