اجنبی مخلوق کی تلاش کے لیے نیٹ ورک

Image caption زمین سے باہر موجود خفیہ مخلوق پر زیادہ تر تحقیق امریکہ میں ہوئی ہے

برطانیہ کے سائنس دان ستاروں میں موجود اجنبی مخلوق کا پتہ لگانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ نیٹ ورک بنایا گیا ہے۔

یہ نیٹ ورک گیارہ تعلیمی اداروں کے شعبوں کے اشتراک سے قائم ہوا ہے۔ جس کے تحت زمین کے باہر موجود خلائی مخلوق ’سیٹہی‘ کی تلاش کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کیا جائے گا۔

برطانیہ میں خلائی مخلوق ’سیٹہی‘ کا پتہ لگانے والے اس نیٹ ورک کو’ یو کے ایس ار این‘ کا نام دیا گیا ہے۔

برطانوی شاہی خاندان کے ماہر فلکیات مارٹن رئیس اس نیٹ ورک کے سربراہ ہوں گے۔

اجنبی مخلوق پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے گروہ نے ٹیلی سکوپ، ریڈیو اور ڈیٹا کے تجزیے کے لیے تقریباً دس لاکھ پاؤنڈ کی مالی معاونت کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سے قبل زمین سے باہر موجود اجنبی مخلوق پر زیادہ تر تحقیق امریکہ میں ہوئی ہے۔

نیٹ ورک کے ایک اعلیٰ اہلکار ایلن پینی نے بتایا کہ برطانیہ اس میں اپنی مہارت دکھانا چاہتا ہے۔

سینٹ اینڈریو یونیورسٹی کے محقق نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے نہیں معلوم کے خلائی مخلوق موجود ہے یا نہیں لیکن میں اُن کا پتہ لگانے کے لیے بے چین ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم اس کائنات میں اکیلے ہوں اور ہم ان مضمرات پر سوچ رہے ہیں کہ آگر ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں تو کائنات کی ہر چیز ہمارے لیے ہے۔ آگر ہم اکیلے نہیں ہیں تو یہ ایک طرح سے بہت منفرد ہے‘۔

برطانیہ کے ایس ار این نیٹ ورک کی پہلی باضابطہ ملاقات قومی فلکیات کے ہفتہ وار اجلاس میں ہوئی۔

گزشتہ برسوں میں برطانیہ میں اجنبی مخلوقات کی تلاش کے لیے خاطر خواہ کام نہیں ہوا ہے۔

سنہ 1998 سے 2003 کے درمیان فونکس پراجیکٹ کے تحت 76 میٹر کی ریڈیو ٹیلی سکوپ نصب کی گئی تھی جسے ایک ہزار ستاروں کے سگنل تلاش کرنے تھے لیکن آخر میں اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔

اسی بارے میں