امریکہ:’نو لاکھ کھرب ڈالر‘ کی غلطی

Image caption کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ کرس رینلڈز کی تجویز کردہ فلاحی تنظیم کو عطیہ دینے کی پیشکش کریں گے

انٹرنیٹ پر پیسوں کا لین دین کرنے والی امریکی کمپنی پے پال نے غلطی سے ایک صارف کے اکاؤنٹ میں نو لاکھ کھرب ڈالر ڈال دیے۔

امریکی ریاست پینسلوینیا کے چھپن سالہ کرس رینلڈز کو یہ بات تب معلوم ہوئی جب انھوں نے کمپنی کی جانب سے آنے والی اپنی ماہانہ سٹیٹمنٹ کا جائزہ لیا۔

تاہم اس غلطی کو فوری طور پر پکڑ لیا گیا اور جب تک کرس رینلڈز نے انٹرنیٹ پر آ کر اپنے اکاؤنٹ کا معائنہ کیا تو اس میں کوئی پیسے موجود نہیں تھے۔

پے پال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ظاہری سی بات ہے کہ یہ ایک غلطی تھی اور ہم ممنون ہیں کہ جناب رینلڈز اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔‘

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ کرس رینلڈز کی تجویز کردہ فلاحی تنظیم کو عطیہ دینے کی پیشکش کریں گے۔

.مقامی اخبار فلاڈیلفیا ڈیلی نیوز سے بات کرتے ہوئے کرس رینلڈز کا کہنا تھا کہ ان کے اکاؤنٹ میں 92233720368547800 ڈالر کی رقم ’کافی حیران کن‘ بات تھی۔

اسی بارے میں