’بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ ماحولیاتی تبدیلی‘

Image caption یہ مطالعہ سائنس جریدے میں شائع ہوا ہے

امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں بڑھتے ہوئے تشدد کا تعلق ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہے۔

سائنسدانوں کو تحقیق کے دوران معلوم ہوا ہے کہ درجۂ حرارت میں معمولی تبدیلی یا بارش بھی حملوں، جنسی زیادتی، قتل، کشیدگی اور جنگ پر اثر انداز ہوتا ہے۔

تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ جس سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کا اندازہ لگایا گیا ہے اس سے لگتا ہے کہ دنیا میں پرتشدد واقعات بڑھ جائیں گے۔

کیلی فورنیا یونیورسٹی کے مارشل برک نے ماحولیاتی تبدیلی اور تشدد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’یہ تعلق ہم نے دنیا کے بڑے براعظموں اور مختلف اوقات میں دیکھا۔ ان دونوں کا تعلق خاصا گہرا ہے۔‘

یہ مطالعہ سائنس جریدے میں شائع ہوا ہے۔

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے دنیا بھر میں کیے گئے 60 مطالعوں کو دیکھا جن کا ڈیٹا سینکڑوں سالوں پر محیط تھا۔ انھوں نے تشدد اور ماحولیاتی تبدیلی کے درمیان مضبوط رشتہ پایا۔ تاہم بعض سائنسدان اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں بھارت میں حالیہ خشک سالی کے دوران گھریلو تشدد اور امریکہ میں گرمی کی لہر کے دوران حملوں، ریپ اور قتل کے واقعات میں اضافے کی مثالیں دی ہیں۔

تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا گیا ہے کہ دنیا میں بڑھے تنازعات بشمول یورپ کے نسلی فسادات اور افریقہ میں خانہ جنگی اور وہاں پر بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے درمیان بھی تعلق ہے۔

مارشل برک نے کہا: ’ہم محتاط رہنا چاہتے ہیں۔آپ خاص کر ماحول کو ایک واقعے کا ذمے دار نہیں ٹھہرا سکتے لیکن ہمیں کچھ دلچسپ نتائج ملے ہیں۔‘

محققین کا کہنا ہے کہ اب وہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تشدد اور ماحول کے درمیان یہ غیر رسمی رشتہ کیوں ہیں۔

مارشل برک نے وضاحت دیتے ہوئے کہا، ’تحقیق سے ہمیں اس کی مخلتف وجوہات کی طرف اشارہ ملتا ہے۔‘

’اس کی ایک وجہ معاشی حالات میں تبدیلی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ آب و ہوا دنیا بھر میں اور خاص کر زرعی علاقوں میں معاشی حالات پر اثر انداز ہوتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ’مثال کے طور پر اس بات کے خاصے ثبوت ہیں کہ لوگوں کا کسی بغاوت میں شریک ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے پر ان کے معاشی حالات اثر انداز ہوتے ہیں۔‘

لیکن انھوں نے مزید کہا کہ اس کے طبعی وجوہات بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ بعض مطالعاتی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ گرمی کی وجہ سے جارحیت اختیار کر لیتے ہیں۔

مارشل برک کا کہنا تھا: ’مختلف حالات میں ہونے والے واقعات کے درمیان فرق معلوم کرنے پر تحقیق کو مستقبل میں بڑی اہمیت دی جائے گی۔‘

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ ماحولیاتی تبدیلی سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا میں تشدد میں اضافہ ہو گا۔

سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ عالمی سطح پر دو سنٹی گریڈ درجۂ حرارت بڑھنے سے ذاتی نوعیت کے جرائم میں 15 فیصد اضافہ ہوگا اور بعض خطوں میں گروہوں کے درمیان تصادم میں 50 فیصد اضافہ ہوگا۔

اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے ایکسٹر یونیورسٹی کے ڈاکٹر سٹیفن ہیریسن نے کہا کہ یہ ایک بروقت مطالعہ ہے۔

’ان کی تحقیق قابلِ تعریف ہے۔ مثال کے طور پر ہمیں یہ پتا ہے کہ گرم اور خشک موسم کی وجہ سے شہری علاقوں میں تشدد بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح سرد اور مرطوب موسم میں لوگ گھروں کے اندر رہتے ہیں جس کی وجہ سے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔‘

تاہم بعض سائنسدان اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے کشیدگی بڑھتی ہے۔

پروسیڈنگز آف نیشنل اکیڈمی آف سائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ افریقہ میں خانہ جنگی کی وجہ ماحولیاتی تبدیلی نہیں تھی۔

ناروے کے پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر ہالوارڈ بیوہاگ کا تجزیہ ہے کہ افریقہ میں خانہ جنگی کی وجہ نومولود بچوں کی اموات، بین الاقوامی سرحدوں کے قریب مسکن اور زیادہ آبادی ہیں۔

حالیہ تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ہالوارڈ بیوہاگ نے کہاء ’مجھے ان کے اس نتائج سے اختلاف ہے کہ ماحول ا ور تشدد کے مابین گہرا تعلق ہے۔‘

اسی بارے میں