موٹو ایکس: مالک کے احکامات سننے والا فون

موبائل فون بنانے والی کمپنی موٹرولا نے ایک ہمیشہ اپنے مالک کے احکامات سننے والے فون کا اعلان کیا ہے۔

وگل کی ملکیتی کمپنی موٹرولا کا دعویٰ ہے کہ اب گوگل ناؤ موٹو ایکس کے ٹچ کنٹرول سسٹم کو احکامات سننے کے قابل بنائے گا۔

یہ فون امریکہ میں بنایا جائے گا جس میں صارفین کو کافی ساری کسٹمائزیشن کی سہولیات ملیں گی۔

کسٹمائزیشن کا مطلب ہے کہ صارفین فون میں اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق مختلف آپشن شامل کر یا نکال سکیں گے۔

یہ فون گوگل کی جانب سے گزشتہ سال موٹرولا کو خریدنے کے بعد پہلا فون ہو گا جسے مکمل طور پر از سرِ نو تیار کیا جائے گا۔

اس صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ فون اینڈروئیڈ پر چلنے والے فون کی صنعت کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہو گا کیونکہ ایسے کئی فون جو اینڈروئیڈ پر چلتے ہیں منافع کمانے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس فون کا ہارڈ ویئر امریکہ میں تیار کیا جائے جس کے بعد موٹرولا بھی ان کئی کمپنیوں میں شامل ہو جائے گی جو ’امریکہ میں تیار کردہ‘ مصنوعات کے لیبل کے پیچھے ہیں۔

اس کی وجہ سے صارفین کو موبائل کے رنگ اور اس پر مختلف نوعیت کی کندہ کاری کے آپشن ہوں گے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین کے پاس دو ہزار کے قریب آپشن موجود ہوں گے جنہیں وہ استعمال کر سکتے ہیں۔

چونکہ یہ موٹرولا کی جانب سے گوگل کی ملکیت میں آنے کے بعد بنایا جانے والا پہلا فون ہے اس لیے اس فون سے یہ واضع ہو سکے گا کہ گوگل اپنے موبائل پلیٹ فارم سے کیا چاہتا ہے۔

اس فون کے اعلان کے بعد سے ایک بار پھر توجہ سام سنگ اور گوگل کے مابین نازک تعلقات پر آگئی ہے جو اینڈروئیڈ کے نظام پر چلنے والے فون بنانے والی ایک بڑی کمپنی ہے۔

Image caption اس فون کا ہارڈ وئیر امریکہ میں تیار کیا جائے جس کے بعد موٹرولا بھی ان کئی کمپنیوں میں شامل ہو جائے جو ’امریکہ میں تیار کردہ’ مصنوعات کے لیبل کے پیچھے ہیں

سام سنگ اور اینڈروئڈ ایک دوسرے پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں اور سام سنگ پوری دنیا میں انیڈروئیڈ پر چلنے والے فون کے ساٹھ فیصد کے قریب حصہ دار ہے۔

اس فون کے مارکیٹ میں آنے سے گوگل اور سام سنگ کے درمیان تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ گوگل چاہے گا کہ اس کا یہ فون کامیاب ہو مگر اس کی قیمت کیا ہو گی؟

دو ہزار تیرہ کے پہلے تین مہینوں میں اینڈروئیڈ پر چلنے والے فون کی عالمی مارکیٹ سے حاصل ہونے منافع میں پچانوے فیصد سام سنگ کے حصے میں آیا۔ اب اگر سام سنگ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اینڈروئیڈ استمعال نہیں کرے گا تو اس سے انیڈروئیڈ کے منافعے میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گا۔

سام سنگ نے کبھی بھی اس بات کا عندیہ نہیں دیا کہ وہ اپنا آپریٹنگ نظام بنائے گا مگر گزشتہ ہفتے اس نے اپنی نوعیت کی پہلی ڈویلپرز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

اس کانفرنس میں مختلف ڈویلپرز ایک مخصوص پلیٹ فارم کے لیے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر بنانے کے لیے مخلتف نوعیت کے منصوبوں پر خیالات ایک دوسرے سے شیئر کریں گے۔

موبائل فون کی مارکیٹ پر نظر رکھنے والے ادارے آئی ڈی سی کے فرانسسکو جرنیمو کے مطابق گوگل اس فون سے اس بات کا عندیہ دے رہا ہے کہ سام سنگ کے ساتھ ہمیشہ کے لیے کام کیا جانا شاید ممکن نہیں ہو گا۔

جرنیمو کا کہنا ہے کہ ’گوگل کے لیے یہ ایک سوال ہے کہ وہ موٹرولا کو مرنے نہیں دے گا اور اسے جلد از جلد منافع بخش کاروبار میں بدلے گا۔‘

گوگل کے مطابق موٹو ایکس امریکہ، کینیڈا اور لاطینی امریکہ میں اگست کے اواخر یا ستمبر کے آغاز میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اس فون کی قیمت ایک سو ننانوے امریکی ڈالر ہو گی اگر اسے دو سال کے کنٹریکٹ پر حاصل کیا جائے۔

اسی بارے میں