’انٹرنیٹ پر حالات حاضرہ پر بحث کی ممانعت‘

امریکہ نے ویتنام کی جانب سے جاری کی گئی نئی انٹرنیٹ پالیسی پر تنقید کی ہے جس کے تحت صارفین حالات حاضرہ پر بحث نہیں کر سکیں گے۔

ویتنام حکومت نے پچھلے ہفتے نیا قانون منظور کیا تھا جس کا اطلاق ستمبر سے ہو گا۔ نئے قانون کے تحت سماجی رابطوں کی ویب سائٹ صرف ذاتی معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔

ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں قائم امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نئے قانون ’پر سخت تشویش‘ ہے۔

واضح رہے کہ اس سال ویتنام نے ریاست مخالف سرگرمیوں میں 46 بلاگرز اور دیگر افراد کو سزا سنائی ہے۔

اس نئے قانون کے تحت کوئی شخص حکومت مخالف یا قومی سلامتی کے خلاف مواد آن لائن پر شائع نہیں کر سکتا۔

اس نئے قانون کو حکم نامہ 72 کا نام دیا گیا ہے۔ اس قانون میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹوئٹر اور فیس بک کو صرف ذاتی معلومات کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔

رپورٹرز ود آؤٹ بورڈرز نے ویتنام کو ’انٹرنیٹ کے دشمنوں‘ کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

’اگر اس حکمنامے پر عملدرآمد ہوا تو ویتنام کے شہری مستقل طور پر آزادی اور اظہارِ خیال سے محروم ہو جائیں گے جن کا اظہار بلاگ اور فورمز پر کیا جاتا ہے۔‘

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اس قانون کے تحت غیر ملکی انٹرنیٹ کمپنیوں پر لازم ہو گا کہ وہ سرور ویتنام ہی میں رکھیں۔

اسی بارے میں