موسیقی کا تعلق سننے سے یا دیکھنے سے؟

Image caption لوگ جذبات سے بھرپور پرفارمنس سے موسیقی کے معیار کا اندازہ لگاتے ہیں

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کلاسیکی موسیقی کا مقابلہ جیتنے کے لیے فن کار کی اپنے فن پر گرفت ہی کافی نہیں ہے، بلکہ سٹیج پر اس کی پرفارمنس کا انداز بھی بہت اہم ہے۔

یہ تحقیق سائنسی رسالے پی این اے ایس میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں معلوم ہوا کہ جب لوگوں کو پیانو نوازوں کی پرفارمنس کی بغیر آواز کے ویڈیو دکھائی گئی تو انھوں نے مقابلہ جیتنے والوں کی درست شناخت اسی تناسب سے کر لی جس سے آواز سننے والے لوگوں نے کی تھی۔

سائنس دان کہتے ہیں کہ اس سے ہماری حسِ بصارت کے باقی حسوں پر غلبے کا اندازہ ہوتا ہے۔

اس تحقیقی مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی فنکار کی کارکردگی میں اس کا واضح طور پر دکھائی دینے والا جذبے کا اہم کردار ہے، جب کہ انفرادیت اور تخلیقیت کا نمبر اس کے بعد آتا ہے۔

برطانیہ کے یونیورسٹی کالج آف لنڈن کی سائنس دان چیا جنگ سے اس تحقیق کی مصنف ہیں اور وہ خود بھی پیانو بجاتی ہیں۔ وہ یہ معلوم کرنا چاہتی تھیں کہ موسیقی کس طرح پرکھی جاتی ہے اور یہ کہ پیشہ ور موسیقار بھی یہ نہیں جانتے کہ ان کی بصری پرفارمنس کس قدر اہم ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’میں نے محسوس کیا کہ آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کے ردِعمل میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ اس سے یہ سوال اٹھا کہ بصری معلومات کس حد تک اہم فیصلوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔‘

تحقیق کے دوران ایک ہزار سے زیادہ شرکا کو بلا آواز ویڈیو، آواز والی ویڈیو، اور آڈیو ریکارڈنگز دی گئی تھیں، اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ دس بین الاقوامی سطح کے کلاسیکی موسیقاروں میں سے تین بہترین موسیقاروں کا انتخاب کریں۔

اصل مقابلے کے فاتحین کو صرف وہی لوگ شناخت کر پائے جنھیں خاموش ویڈیو دی گئی تھی۔ آواز والی ویڈیو دیکھنے والے اور صرف آڈیو سننے والے فاتحین کو شناخت کرنے میں ناکام رہے۔

ڈاکٹر چیا جنگ کہتی ہیں کہ یہ نتائج خاصے حیران کن تھے، خاص طور پر اس لیے کہ تربیت یافتہ موسیقار اور اناڑی دونوں اقسام کے سامعین نے کہا تھا کہ موسیقی کی پرکھ کے لیے ان کے نزدیک آواز سب سے اہم ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ مہارت کے درجے سے قطع نظر ہم موسیقی کے میدان میں بھی بصارت سے حاصل ہونے والی معلومات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اس دریافت سے زندگی کے دوسرے شعبوں پر بھی روشنی پڑتی ہے جن میں بصری معلومات پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے، مثال کے طور پر نوکری کے لیے ملازمین کی بھرتی یا سیاسی رہنماؤں کا انتخاب۔

برطانیہ کی کیل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی موسیقی کی ماہرِنفسیات الیگزینڈرا لمونٹ نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس سے پہلے کی جانے والی تحقیقات کی تائید کرتی ہے کہ سامعین سازندوں کی پرفارمنس سے متاثر ہوتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’موسیقی کی پرفارمنس میں آواز کے علاوہ بصری عناصر بھی شامل ہوتے ہیں، جن سے موسیقی سے زیادہ لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ ان عناصر میں موسیقار کی حرکات و سکنات اور سٹیج پر روشنیوں کا کھیل وغیرہ شامل ہیں۔‘

اسی بارے میں