’ناچنا صحت کے لیے مفید ہے‘

Image caption سکاٹش ہاؤس ہولڈ سروے ایک مسلسل تحقیق ہے جو کہ سکاٹ لینڈ کے عوام کے ایک نمونے پر مبنی ہے

ایک نئی تحقیق کے مطابق ناچنا، پڑھنا اور تھیٹر دیکھنے جیسی سرگرمیوں سے سکاٹش افراد کی صحت پر مثبت اثر پڑتا ہے۔

سکاٹ لینڈ کی حکومت کی جانب سے کرائی گئی تحقیق سکاٹش ہاؤس ہولڈ سروے سے حاصل کی گئی معلومات پر مبنی ہے۔

تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جو لوگ ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت کرتے ہیں ان کے صحت مند ہونے اور زندگی میں مطمئن ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جس روز کامن ویلتھ گیمز کی ٹکٹوں کی فروخت شروع کی جا رہی ہے۔

کامن ویلتھ گیمز آئندہ سال موسمِ گرما میں گلاسگو میں منعقد کیے جائیں گے۔

تحقیق کے مطابق عمر، معاشی حالات، آمدنی، تعلیم یا معزور ہونے سے بالاتر ثقافتی شرکت لوگوں کی صحت کے لیے مثبت ہے۔

تحقیق کے اہم نتائج مندرجہ ذیل ہیں:

  • جو لوگ گذشتہ بارہ ماہ میں کوئی ثقافتی جگہ یا تقریب دیکھنے گئے ان کی دوسروں کے مقابلے میں بہتر صحت ہونے کا امکان ساٹھ فیصد زیادہ ہے۔
  • جن لوگوں نے گذشتہ بارہ ماہ میں کسی ثقافتی یا تخلیقی عمل میں شرکت کی ان کی دوسروں کے مقابلے میں بہتر صحت ہونے کا امکان اڑتیس فیصد زیادہ ہے۔
  • جو لوگ لائبریری یا عجائب گھر جاتے ہیں ان کی دوسروں کے مقابلے میں بہتر صحت ہونے کا امکان بیس فیصد زیادہ ہے۔
  • جو لوگ تھیٹر جاتے ہیں ان کی دوسروں کے مقابلے میں بہتر صحت ہونے کا امکان پچیس فیصد زیادہ ہے۔
  • جن لوگوں نے نانچے کی تقریبات میں شرکت کی ان کی دوسروں کے مقابلے میں بہتر صحت ہونے کا امکان باسٹھ فیصد زیادہ ہے۔
  • جو لوگ تفریحاً مطالعہ کرتے ہیں ان کی دوسروں کے مقابلے میں بہتر صحت ہونے کا امکان تینتیس فیصد زیادہ ہے۔

وزیرِ ثقافت فیئونہ ہسلوپ نے ’ثقافت اور کھیلوں میں شرکت کا سکاٹ لینڈ میں صحت اور زندگی پر اثر: سنہ دو ہزار تیرہ‘ نامی تحقیق کے جواب میں کہا کہ ’ بچپن میں اس قسم کی سرگرمیوں میں حوصلہ افزائی سے اس بات کا امکان بڑھتا ہے کہ بطور بالغ آپ ان کے فوائد سے زیادہ مستفید ہو سکیں گے۔‘

سکاٹش ہاؤس ہولڈ سروے ایک مسلسل تحقیق ہے جو کہ سکاٹ لینڈ کے عوام کے ایک نمونے پر مبنی ہے۔

اس کا مقصد سکاٹ لینڈ کی عوام سے مختلف سوالات کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنا ہے جن میں قومی اور مقامی سطح پر جائزہ لیا جاتا ہے۔

اس جدید ترین تحقیق میں استعمال کیے جانے والی معلومات سنہ دو ہزار دس اور گیارہ میں اکھٹی کی گئی تھیں۔

سنہ دو ہزار دس اور گیارہ میں چودہ ہزار تین سو اٹھاون گھرانوں سے معلومات لیں گئی جن میں سے پچھتر فیصد سے ثقافت کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

اسی بارے میں