خلاباز کا خلا میں ’ڈوب‘ جانے کا خوف

لوکا
Image caption مئی میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پر پہنچنے کے بعد وہ خلا میں چہل قدمی کرنے والے پہلے اطالوی خلاباز بن گئے تھے

ایک اطالوی خلاباز نے اس واقعے کا حال بیان کیا ہے جب خلا میں چہل قدمی کے دوران ان کے ہیلمٹ میں پانی بھر جانے سے وہ خوفزدہ ہوگئے تھے۔

ناسا نے خلا میں چہل قدمی روک دی

اپنے بلاگ میں لوکا پارمیتانو نے بتایا کہ اس دوران ان کے خلائی لباس کے اندر پانی بھر رہا تھا اور ان کی آنکھوں اور کانوں میں جا رہا تھا۔

چھتیس سالہ لوکا پارمیتانو اس بات پر حیران ہیں کہ آخر یہ پانی کہاں سے آ رہا تھا کیونکہ بظاہر یہ ان کے پینے کے پانی کی بوتل سے نہیں آ رہا تھا۔

سولہ جولائی کو پیش آنے والے اس واقعے میں وہ اپنے ساتھی خلاباز کریسٹوفر کیسڈی کے ساتھ خلائی چہل قدمی کر رہے تھے جب ان کے خلائی لباس میں ایک لیک کی وجہ سے پانی بھرنا شروع ہوگیا۔ جیسے ہی مشن کنٹرول کو یہ بات معلوم ہوئی تو چہل قدمی کو معطل کر دیا گیا۔

اس وقت لوکا پارمیتانو کو نظر آنا بند ہوگیا اور وہ اپنی حفاظتی کیبل کی مدد سے واپس خلائی سٹیشن تک پہنچے۔

وہ لکھتے ہیں ’جیسے جیسے میں اپنے ایئر لاک (یعنی خلائی سٹیشن کا وہ حصہ جہاں سے خلاباز باہر جاتے ہیں) کی جانب بڑھ رہا تھا مجھے یقین ہوتا جا رہا تھا کہ پانی بڑھتا جا رہا ہے۔ جب میرے کانوں میں پانی جانے لگا تو میں سوچ رہا تھا کہ کیا اب میرا رابطہ منقطع ہو جائے گا۔‘

’پانی مکمل طور پر میرے وائزر (ہیلمٹ کے کوور) پر بھی آگیا اور مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ پانی میرے ناک میں بھی جا رہا تھا جو کہ ایک انتہائی برا احساس ہے اور صورتحال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب پانی کو ہٹانے کے لیے میں نے سر ہلانے کی بے سود کوشش کی۔‘

’تھوڑی دیر میں پورا ہیلمٹ پانی سے بھر گیا اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اگر میں نے اب سانس لیا تو میرے پھیپھڑوں میں ہوا جائے گی یا پانی۔‘

’میری مشکلات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کس جانب بڑھوں۔ مجھے چند سینٹی میٹر سے زیادہ دور کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔‘

اپنے ساتھیوں کی آواز سننے کی کوششیں کرتے ہوئے ایک دم سے لوکا پارمیتانو کو خیال آیا کہ وہ اپنی حفاظتی کیبل استعمال کر سکتے ہیں۔ ’یہ ایک کیبل ہے جس کی طاقت ایک عشاریہ تین کلوگرام ہے اور یہ مجھے بائیں جانب کھینچ سکتی ہے۔ ایئرلاک تک پہنچنے کے لیے یہ اس وقت ایک بہترین طریقہ تھا۔‘

’میں ایک طرف بڑھنے لگا تو مجھے ایسا لگا کہ میں ہمیشہ سے سفر میں ہوں لیکن مجھے معلوم ہے کہ حقیقت میں وہ صرف چند منٹ ہی تھے۔ آخر کار میری آنکھوں کے سامنے جو پانی کا پردہ تھا وہ ذرا سا ہٹا اور مجھے ایئرلاک کا ڈھکن نظر آنے لگا۔ مجھے یقین ہوگیا کہ مزید تھوڑا آگے بڑھنے سے میں محفوظ ہو جاؤں گا۔‘

منصوبے کے مطابق یہ خلائی مشن چھ گھنٹے جاری رہنا تھا جس میں سٹیشن کی معمول کی دیکھ بھال کے کام ہونا تھے۔ تاہم ایک ہی گھنٹے بعد یہ مشکلات پیدا ہوگئیں۔‘

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اس واقعے کے بعد خلا میں ہونے والی تمام چہل قدمی منسوخ کر دی ہے اور واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ناسا کا کہنا ہے کہ وہ سپیس واک کو محفوظ بنانے کے لیے ماضی کے واقعات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

تاہم انٹرنیشنل سپیس سٹیشن کے دو روسی خلاباز جمعرات کو سپیس واک کریں گے۔ ان کا مقصد ایک چھوٹی دور بین نصب کرنا اور ڈاکنگ اسمبلی پر کام کرنا ہے۔ روسی خلا باز کے خلائی لباس امریکی لباس سے بہت مختلف ہیں۔ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پر اس وقت عملے کے چھ لوگ موجود ہیں۔

یہ واقعہ لوکا کی دوسری سپیس واک کے دوران پیس آیا تھا۔ مئی میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پر پہنچنے کے بعد وہ خلا میں چہل قدمی کرنے والے پہلے اطالوی خلاباز بن گئے تھے۔

لوکا اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’خلا ایک سخت گیر اور ناساز جگہ ہے اور ہم محقق ہیں نہ کہ نو آباد کار۔ ہمارے انجینیئروں اور ہماری ٹیکنالوجی معاملات کو انتہائی سادہ طور پر پیش کرتی ہے مگر بات ایسی نہیں ہے۔ شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں اور اسے بھولنا نہیں چاہیے۔‘

اسی بارے میں