’ملیریا کے خاتمے کے لیے مچھر ختم کریں‘

Image caption 2010 میں دنیا بھر میں ملیریا کے ہاتھوں چھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے

ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے افریقہ اور ایشیا سے ملیریا کا مرض کم کرنے کے لیے مچھروں کے پنپنے کے مقامات کو نشانہ بنانا ضروری ہے۔

تحقیق کاروں نے کہا کہ چوں کہ مچھر کش ادویات کے خلاف مچھروں کے اندر مدافعت بڑھ رہی ہے، اس لیے ملیریا پر قابو پانے کے لیے نئی تدابیر کی ضرورت ہے۔

ان میں سے ایک کھڑے پانی کو سکھا دینا ہے تاکہ وہاں ملیریا کے انڈے (لاروا) نہ پنپ سکیں۔

2010 میں دنیا بھر میں ملیریا کے ہاتھوں چھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے اکثر افریقی بچے تھے۔

بی بی سی کی عالمی صحت کی نامہ نگار ٹیولپ موجمدار کا کہنا ہے کہ گذشتہ عشرے میں ملیریا کے باعث مرنے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی بڑی وجہ ادویات ملی مچھر دانیاں اور گھر کے اندر مچھر کش سپرے کا استعمال ہے۔

تاہم مچھر ان ادویات کے خلاف مدافعت پیدا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ لندن سکول آف ہائجین اور ٹراپیکل میڈیسن نے کہا ہے کہ حکام کو چاہیے کہ وہ ’لاروا کے منبع پر قابو پانے‘ کا طریقہ استعمال کریں۔

اس طریقے میں گڑھوں یا چاول کے کھیتوں میں کھڑے پانی کے اندر موجود لاروا کو ختم کرنے کے یا تو پانی بہار دیا جاتا ہے، یا پھر مٹی کو پہلے پانی سے دھویا جاتا ہے تاکہ وہاں لاروا کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ مل سکے۔

تاہم رپورٹ کی مصنفہ لوسی ٹسٹنگ تسلیم کرتی ہیں کہ یہ طریقہ محدود ہے: ’بعض اوقات اس کے لیے بہت محنت کرنا پڑتی ہے اس لیے یہ طریقہ خاصا مہنگا پڑتا ہے۔

’تاہم بعض صورتوں میں ہو سکتا ہے کہ کسی گاؤں کے مرکز میں ایک تالاب ہو۔ اسے ختم کر کے آپ بہت کم محنت سے مچھروں کی تعداد کم کر سکتے ہیں۔‘

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ اس طریقے کی حمایت کے لیے فی الحال تحقیق اتنی جامع نہیں ہے، اور وہ ایسے دیہی علاقوں میں اس کی سفارش نہیں کرتی جہاں مچھروں کے پنپنے کی جگہیں تلاش کرنا مشکل ہو۔

ادارے کے مطابق مچھروں کے انڈوں پر کنٹرول کے طریقے کے ساتھ ساتھ مچھر کش ادویات اور مچھر دانیاں بھی استعمال کی جائیں۔

اسی بارے میں