میڈیا حملوں کے لیے تیار رہے: شامی ہیکرز

Image caption شام میں فوجی مداخلت کے بہت سنگین نتائج ہوں گے: ایس ای اے

نیویارک ٹائمز اور ٹوئٹر پر حملے کرنے والے شامی ہیکروں نے میڈیا پر مزید حملے کرنے کی دھمکی دی ہے۔

صدر بشارالاسد کی حامی سیریئن الیکٹرانک آرمی (ایس ای اے) نامی تنظیم نے کہا ہے کہ میڈیا ان کی طرف سے مزید حیران کن حملوں کی ’توقع کرے‘۔

برطانیہ کے دارالعوام میں جمعرات کو شام پر حملے کے خلاف ووٹ کے بعد ایس ای اے کے ایک ترجمان نے ای میل کے ذریعے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ برطانوی پارلیمان کا ’فیصلہ درست ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’شام میں فوجی مداخلت کے بہت سے نتائج ہوں گے اور ان سے پوری دنیا متاثر ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مشن شام کے بارے میں سچائی اور واقعات کی حقیقت کو پھیلانا ہے۔‘

واضح رہے کہ ایس ای اے نے مخلتف میڈیا اداروں کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے جن میں بی بی سی، سی این این اور گارڈین شامل ہیں۔

ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے جن میڈیا کے اداروں کو نشانہ بنایا وہ شام کی صورتِ حال کے بارے میں غلط اور من گھڑت خبریں دے رہے تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں کام کرنے کے لیے فنڈز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہمیں صرف کمپیوٹر اور انٹرنٹ کنیکشن کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

ایس ای اے کے حالیہ ہفتوں تک کے حملے زیادہ تر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اکاؤنٹ ہیک کرنے پر مرکوز رہے۔

ایس ای اے نے ایک خاص طور پر موثر حملے کے دوران خبر رساں ادارے اے پی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کر کے اس سے ٹویٹ کیا کہ صدر براک اوباما ایک حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔

نیو یارک ٹائمز پر حملہ زیادہ نقصان دہ تھا جس میں اخبار کی ویب سائٹ پر آنے والوں کو ایس اے ای کی ویب سائٹ پر لے جایا جاتا تھا، تاہم اس حملے کا دورانیہ مختصر رہا۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مقصد نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ پر جنگ کے خلاف پیغام دینا تھا لیکن ہمارا سرور صرف تین منٹ تک چل سکا۔‘

اسی بارے میں