خصیوں کے سائز کا بچوں کی پرورش سے تعلق

Image caption بچوں کی پرورش میں ثقافتی عوامل بھی کردار ادا کرتے ہیں

سائنس دانوں کا کہنا ہےکہ باپ کے خصیوں کے سائز سے اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی پرورش میں کتنا فعال کردار ادا کرتا ہے۔

امریکہ کی ایمری یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ چھوٹے خصیوں والے مرد بچوں کے پوتڑے تبدیل کرنے، انھیں کھلانے پلانے اور نہلانے میں زیادہ ہاتھ بٹاتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی معلوم کیا کہ باپوں کے بچوں کی تصویریں دیکھتے وقت لیے جانے والے دماغی سکین مختلف ہوتے ہیں اور ان کا تعلق بھی خصیوں کی جسامت سے ہے۔

لیکن اس کے علاوہ اور عوامل بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں، جن میں ثقافتی توقعات شامل ہیں۔

جانوروں میں خصیوں کے سائز اور آزادانہ جنسی میل ملاپ کے درمیان گہرا تعلق پایا گیا ہے، اور نسبتاً بڑے خصیوں والے جانور زیادہ ماداؤں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے ہیں۔

سائنس دان یہ ارتقائی نظریہ پرکھنا چاہ رہے تھے کہ جنسی تعلق قائم کرنے اور بچوں کی پرورش پر خرچ ہونے والی توانائی میں توازن کیسے برقرار رکھا جاتا ہے۔ بڑے خصیے ظاہر کرتے ہیں کہ بچوں کی پرورش کی نسبت ان کی تخلیق پر زیادہ توجہ دی جائے۔

یہ تحقیق پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں 70 ایسے مردوں میں خصیوں کے سائز اور پدریت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا جن کے بچوں کی عمریں ایک اور دو برس کے درمیان تھیں۔

ایک تحقیق کار ڈاکٹر جیمز رلنگ نے بی بی سی کو بتایا: ’اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض مرد دوسروں کی نسبت بچوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اس سے دوسرے مردوں اس ذمےداری سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ بس اتنا ہے کہ بعض مردوں کو دوسروں کی نسبت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔‘

اس تعلق کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی، لیکن سائنس دانوں کا خیال ہے کہ زیادہ بڑے خصیے شاید زیادہ مردانہ ہارمون ٹیسٹاسٹیرون پیدا کرتے ہیں، جس کا انسانی رویے پر اثر پڑتا ہے۔ لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد باپ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر رلنگ کہتے ہیں:’مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں جب مرد بچوں کی پرورش میں ہاتھ بٹاتے ہیں ان کے اندر ٹیسٹاسٹیرون کی مقدار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔‘

اس تحقیق میں معاشرے کی طرف سے باپ کی ذمے داریوں کے تعین کا جائزہ نہیں لیا گیا۔ لیکن اس تحقیق میں شام تمام مردوں کا تعلق امریکی شہر اٹلانٹا سے تھا اس لیے اس تحقیق میں معاشرتی اثرات کی جانچ نہیں کی گئی تھی۔

اسی بارے میں