جاپان:’کفایتی‘خلائی راکٹ کا کامیاب تجربہ

Image caption ایپسیلون کو خلا میں بھیجنے کا عمل بھی ایم فائیو کی نسبت سستا ہے

جاپان نے ایک ایسا نیا راکٹ تیار کیا ہے جس کے ڈیزائن کی بدولت مصنوعی سیاروں کو خلا میں بھیجے جانے کی لاگت میں کمی آ سکے گی۔

ایپسیلون نامی راکٹ کا حجم جاپان کی پچھلی خلائی گاڑیوں کے مقابلے میں آدھا ہے اور یہ حفاظتی تدابیر کے لیے ’آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘ سے کام لیتا ہے۔

جاپان کی خلائی ایجنسی جیکسا کا کہنا ہے کہ ایپسیلون کو بنانے میں سینتیس ملین ڈالر لگے جو کہ اس سے پہلے استعمال ہونے والے راکٹ کے مقابلے میں نصف ہیں۔

اس نئے راکٹ کا تجربہ جاپان کے جنوب میں واقع جزیرہ کیو شو میں کیا گیا۔ اس موقع پر جاپانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اوراس تقریب کو انٹرنیٹ پر نشر بھی کیا گیا-

نئے راکٹ کی مدد سے ایک ایسی دوربین کو خلا میں پہنچایا گیا ہے جو جیکسا کے مطابق دنیا کی ایسی پہلی خلائی دوربین ہے جو زمین کے مدار سے زہرہ، مریخ اور مشتری جیسے سیاروں پر نظر رکھے گی۔

جیکسا کا کہنا ہے کہ راکٹ نے سپرنٹ اے نامی اس دوربین کو کامیابی سے صحیح وقت پر خلا میں زمین کی سطح سے ایک ہزار کلومیٹر کی اونچائی پر چھوڑا۔

ایپسیلون سے قبل استعمال ہونے والے راکٹ ایم فائیو پروگرام کو 2006 میں زیادہ اخراجات کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا۔

جاپانی خلائی ادارے کے مطابق نہ صرف ایپسیلون راکٹ کی تیاری پر کم لاگت آئی ہے بلکہ اسے خلا میں بھیجنے کا عمل بھی ایم فائیو کی نسبت سستا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے استعمال کی وجہ سے نئے راکٹ کو خلا میں روانہ کرنے کے لیے صرف آٹھ لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اس سے پہلے راکٹ کو چلانے کے لیے ڈیڑھ سو لوگ درکار ہوتے تھے۔

جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے نے اس تجربے کی کامیابی کو خلائی ٹیکنالوجی میں جاپان کی مہارت کا ثبوت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیا راکٹ ملک کے خلائی پروگرام اور معیشت میں ترقی کا باعث بنے گا۔

اسی بارے میں