تھری ڈی پرنٹر سے تیار پستول کی نمائش

Image caption ابھی انجینیئرنگ کمپنیاں تھری ڈی پرنٹرکے ذریعے مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت کی جانچ میں لگی ہیں

لندن کے وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم نے تھری ڈی پرنٹر سے تیار کی گئی دنیا کی پہلی پستول کو نمائش کے لیے حاصل کر لیا ہے۔

اس پستول کو ’لبریٹر‘ کا نام دیا گیا ہے جسے امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں قانون کے طالب علم کوڈی ولسن نے اسی سال میں سب سے پہلے بنایا اور چلایا تھا۔

ان کی اس ایجاد کو بندوق مخالف مہم چلانے والوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا بطور خاص جب اس کے بلیو پرنٹ انٹرنیٹ پر ڈالے گئے۔

اس کے بعد امریکی حکومت کی مداخلت پر ان پرنٹس کو انٹرنیٹ سے ہٹا لیا تھا لیکن اس سے پہلے ہی ایک لاکھ لوگ اسے ڈاؤن لوڈ کر چکے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ اس پستول کے بلیو پرنٹ ابھی فائل شیئرنگ سائٹوں اور فورمز پر موجود ہیں۔

وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم اس پستول کے دو نمونوں کی نمائش کر رہا ہے اس کے علاوہ ایک گن کے علیحدہ علیحدہ پرزے بھی نمائش کے لیے رکھے جائیں گے۔

جو بندوق تھری ڈی پرنٹر کے ذریعہ بنائی گئی ہے اس کے مختلف پرزوں اور حصوں کو اے بی ایس پلاسٹک سے تیار کیا گیا ہے اور پھر اسے یکجا کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ صرف اس کی فائرنگ پن کو دھات سے تیار کیاگیا ہے۔

14 سے 22 ستمبر تک چلنے والے لندن ڈیزائن فیسٹیول کے تحت اس تھری ڈی اسلحے کی نمائش ہو رہی ہے۔

بنیادی طور پر یہ اس آتشی اسلحے کی نقل ہوں گے جو لندن میں پرنٹ کیے جائیں گے کیونکہ ابھی تک کوڈی ولسن کو اس اسلحے کو برآمد کرنے کا لائسنس نہیں ہے۔

ایک بیان میں میوزیم نے کہا ہے ’یہ ڈیزائن اور سماج کے حالیہ نمائندہ رجحانات کا مظہر ہے۔‘

واضح رہے کہ دوسرے روایتی اسلحے کے مقابلے لبریٹر تھری ڈی پرنٹر سے پلاسٹک پر لیا گیا اسلحہ ہے۔ بہت سی انجینیئرنگ کی کمپنیاں اس تھری ڈی پرنٹر مشین کے ذریعے مصنوعات بنانے کی جانچ کر رہی ہیں۔ بعد از آں وہ بڑے پیمانے پر مصنوعات کی کاپیاں تیار کرنا شروع کر دیں گی۔

تھری ڈی پرنٹنگ کو مینوفیکچرنگ کے مستقبل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ لبریٹر کے 25 سالہ موجد نے اس منصوبے کو ’آزادی کے لیے کوشش‘ سے تعبیر کیا ہے۔

Image caption امریکہ کے کوڈی ولسن نے اسے تیار کیا ہے اور کامیابی سے اس کا تجربہ بھی کیا

وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم کے ایک سینیئر کیوریٹر کیرن لونگ نے کہا ’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک اہم قدم ہے لیکن میرے خیال میں وکٹوریہ اینڈ البرٹ کا یہ کام ہےکہ وہ لوگوں سے یہ معلوم کرے کہ وہ کیسی دنیا چاہتے ہیں۔‘

لونگ نے دا گارڈین میگزن میں تھری ڈی پرنٹنگ پر بات کرتے ہوئے کہا: ’ابھی تک لوگ کھلونوں جیسی چیزوں کو گھر پر مشین سے پرنٹ کرنے کی صلاحیت پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے لیکن گن کی پرنٹنگ نے اس کے کا دوسرا رخ بھی سامنے لا کھڑا کیا۔‘

جس پرنٹر سے یہ بندوق پرنٹ کی جا سکتی ہے اس کی قیمت پانچ ہزار پاؤنڈ یا آٹھ ہزار ڈالر رکھی گئي ہے۔

واضح رہے کہ پیچیدہ ٹھوس چیز کو پرنٹ کرنے کے لیے پلاسٹک کی تہہ بہ تہہ سطح رکھی جاتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جب یہ پرنٹرز سستے ہو جائیں گے تو لوگ بجائے دکان میں چیزیں خرید نے کے کسی ڈیزائن کو ڈاؤن لوڈ کر کے اس کا پرنٹ گھر پر ہی لے لیں گے۔

اسی بارے میں