پروفیسر ہاکنگ خودکشی میں معاونت کے حامی

Image caption پروفیسر ہاکنگ مکمل طور پر معذور ہیں اور اپنی نقل و حرکت کے لیے ایک خصوصی کرسی کا سہارا لیتے ہیں

نظریاتی طبعیات کے مشہور برطانوی پروفیسر سٹیفن ہاکنگ نے پہلی بار کھلے عام ایسے افراد کو خودکشی میں معاونت دینے کے نظریے کی حمایت کی ہے جو کسی جان لیوا بیماری کے آخری مراحل میں ہوں۔

پروفیسر ہاکنگ موٹر نیورون ڈزیز کے مریض ہیں۔ کچھ عرصہ قبل وہ خود لائف سپورٹ مشین پر رہے ہیں، جس دوران ان کی اہلیہ کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اس مشین کو بند کر سکتی ہیں۔

’لطف اندوز ہونا شروع کیا کہ زندگی بہت مختصر ہے‘

71 سالہ سٹیفن ہاکنگ کو نظریاتی فزکس میں آئن سٹائن کے بعد سے سب سے باصلاحیت سائنسدانوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔

سٹیفن ہاکنگ نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’ہم جانوروں کو تکلیف سے بچاتے ہیں تو انسانوں کو کیوں نہیں؟‘

تاہم انھوں نے کہا: اس بات کا ضرور خیال رکھا جانا چاہیے کہ یہ سہولت صرف انھی افراد کو ہو جو خود اپنی زندگی ختم کرنا چاہتے ہوں اور اس ضمن میں ان پر کوئی دباؤ نہ ہو۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ایسے افراد کے اہلخانہ کو قانونی چارہ جوئی کے خوف کے بغیر ان کی موت میں معاونت کرنی چاہیے۔

سٹیفن ہاکنگ نے 12 اعزازی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں اور 2009 میں امریکہ میں انہیں سب سے اعلیٰ سول اعزاز صدارتی میڈل سے نوازا گیا تھا۔

1963 میں جب انہیں موٹر نیورون کا مرض لاحق ہوا تو اس وقت طبی ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ صرف چند ماہ ہی زندہ رہ سکیں گے۔ لیکن 1980 کی دہائی میں ہاکنگ اپنے انگوٹھے کی خفیف جنبش سے کمپیوٹر کے ’کرسر‘ سے کچھ جملے لکھنے لگے۔

لیکن جوں جوں ان کے پٹھے کمزور ہوتے گئے ان کی گویائی کی رفتار کم ہوتی گئی اور یہ کم ہو کر ایک منٹ میں ایک لفظ تک محدود ہو گئی اور پھر ان کے لیے متبادل نظام کی تلاش شروع ہوئی۔

یہ تشویش ظاہر کی جانے لگی کہ بالآخر پروفیسر ہاکنگ اپنے جسم کی حرکتوں کے ذریعے بھی بات کرنے کی اہلیت کھو دیں گے اور ان کا ذہن ان کے جسم میں قید ہو کر رہ جائے گا۔

سنہ 2011 میں انہوں نے پروفیسر لو کو اپنے دماغ کا سکین کرنے کی اجازت دی اور اس کے بعد آئی برین مشین سے ان کے دماغ کو سکین کیا گیا۔

2007 میں سٹیفن ہاکِنگ نے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے عدم کشش ثقل والی پرواز میں سفر کیا تھا۔

اسی بارے میں