نیند کے دوران خوف کا علاج ممکن ہے

ایک تحقیق کے مطابق نیند کے دوران خوشبو کی مدد سے لوگوں کے خوف کو کم کیا جا سکتا ہے۔

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 15 صحت مند لوگوں کو دو مختلف چہروں کی تصاویر دکھا کر ان کی خوف اور خوشبو کے ساتھ تربیت کی۔

اس کے بعد ان افراد کو نیند کے دوران ایک تصویر سے منسلک خوشبو سنگھائی گئی اور جب یہ افراد سو کر اٹھے تو یہ اس خوشبو سے وابستہ تصویروں سے کم خوفزدہ تھے۔

ایک برطانوی سائنسدان نے نیچر نیورو سائنس کی اس تحقیق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی مدد سے خوف کے مرض کی اور شاید دوسرے صدمات کے بعد کی کیفیت کا علاج ممکن ہو سکتا ہے۔

خوف کے مرض میں مبتلا افراد کو پہلے ہی عام طور پر جاگتے ہوئے’بتدریج خوف کا سامنا‘ کرنے کی تھیرپی کی جاتی ہے۔

محققین کے مطابق اس مشاہدے کو گہری یا کم گہری نیند کے دوران تھیرپی کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اور یہ نیند کا وہ لمحہ ہوتا ہے جب خاص طور پر جذبات پر مبنی یادداشتیں پروسس ہوتی ہیں۔

تحقیق میں نیند کے دوران 15 افراد کو دو مختلف چہرے دکھائے گئے اس کے ساتھ انہیں ہلکا برقی جھٹکا دیا گیا اور اس کے ساتھ مخصوص خوشبو سنگھائی جیسا کہ لیموں، پودینہ اور چوبی خوشبو وغیرہ۔

اس کے بعد انھیں سونے کے لیے ایک لیب میں لے جایا گیا۔ وہاں جب وہ ’سلو ویو‘ نیند میں تھے تو انہیں پہلے دکھائی دی گئی تصاویر کے ساتھ مخصوص خوشبو سنگھائی گئی۔

اس کے بعد یہ افراد نیند سے بیدار ہوئے تو ان کو دوبارہ تصویر دکھائی گئی جس سے مخصوص خوشبو انہیں نیند کے دوران سنگھائی گئی تھی، تو انھوں نے قدرے کم خوف کا اظہار کیا۔

شکاگو کی نارتھ ویسٹ یونیورسٹی فینبرگ سکول آف میڈیسن کی ڈاکٹر کیٹرینا ہیونر کے مطابق ’یہ ایک انوکھی دریافت ہے۔ اس میں ہم نے چھوٹے پیمانے پر کم لیکن قابلِ ذکر حد تک خوف کم ہوتا دیکھا۔‘

’اگر یہ پہلے سے موجود خوف کے علاج کے استعمال ہو سکتا ہے، اور وسیع تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خوف کے مریضوں کا نیند کے دوران علاج ممکن ہے۔‘

اسی بارے میں