قیلولہ سے یاداشت اچھی

Image caption قیلولہ سے ذہنی قوت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

امریکی سائنسدانوں نے پتہ چلایا ہے کہ تین سے پانچ سال کی عمر کے بچوں میں لنچ کے بعد ایک گھنٹے کی نیند ان کی ذہنی قوت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

یونیورسٹی آف میساچیوسٹ ایمرہرسٹ کے تحقیق دانوں نےچالیس بچوں پر تحقیق کے بعد اپنی مختصر رپورٹ میں کہا ہے کہ تین سے پانچ سال کے بچوں کے قیلولہ کے فوائد اگلے دن تک جاری رہتے ہیں۔

اس تحقیق کے مصنف نے کہا ہےکہ دن کو ایک گھنٹے کی نیند ابتدائی تعلیم اور یاداشت کو مستحکم کرنے میں اتنہائی اہم ہے۔

غذائیت کی کمی: تعلیمی کارکردگی متاثر ہونے کاخدشہ

تحقیق دانوں کے مطابق قیلولہ کرنے والے بچوں نے شکل و حجم کو پرکھنے کے ٹیسٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

قیلولہ کے بعد بچوں کی یاداشت میں اس دن کے مقابلے میں جب بچوں کو قیلولہ کی اجازت نہیں دی گئی تھی، میں دس فیصد بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

تحقیق کے دوران چودہ بچوں کو تحقیق کارروں کی ’سلیپ لیبارٹری‘ میں نیند کے دوران بچوں کے ذہنی معائنے سے پتہ چلا ہے کہ بچوں کے ذہن کے سیکھنے والے حصوں میں زیادہ سرگرمی دیکھنے میں آئی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کی رہنما ریبیکا سپنسر کے مطابق ان کی تحقیقاتی ٹیم نے پہلی بار ایسی شہادت پیش کی ہےکہ قیلولہ بچوں کی پڑھائی اور ذہنی قوت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان میں قیلولہ کی عادت ختم ہو جاتی ہے لیکن کم عمر بچوں میں اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔

برطانیہ کے رائل کالج آف پیڈیا ٹرکس کے سربراہ ڈاکٹر رابرٹ سکاٹ ژوپ کے مطابق سائنسدانوں کو گزشتہ کئی عشروں سے یہ معلوم ہے کہ مختصر نیند سے بالغوں کی ذہنی کارکردگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے، لیکن اب تک ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ قیلولہ کم عمر بچوں کی یاداشت کے لیے بھی مفید ہے۔

انہو ں نے کہا کہ یہ تحقیق انتہائی اہم ہے کیونکہ ابھی تک سکول سے پہلے بچوں کی تربیت کرنے والے اداروں کی دن کو بچوں کی نیند کے بارے میں رائے بٹی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاق و چوبند بچوں کےلیے ضروری ہے کہ وہ چوبیس گھنٹوں میں گیارہ سے تیرہ گھنٹے نیند کریں۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں پتہ چلا ہے کہ دن کی نیند بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی رات کی۔

اسی بارے میں