’ایڈز سے عالمی سطح پر اموات میں ڈرامائی کمی‘

Image caption گزشتہ سال تک ایچ آئی وی انفیکشن کے نئے کیس 23 لاکھ رہ گئے جو سال 2001 کی کُل تعداد کا ایک تہائی تھا

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایچ آئی وی انفیکشن اور ایڈز کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایڈز سے متعلق ادارے یو این ایڈز کے مطابق سال 2005 میں واقع ہونے والی 23 لاکھ اموات کے مقابلے میں گذشتہ سال ایڈز کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد 16 لاکھ رہ گئی تھی۔

ساتھ ہی گذشتہ سال تک ایچ آئی وی انفیکشن کے نئے کیس 23 لاکھ رہ گئے جو سال 2001 کی کل تعداد کا ایک تہائی ہیں۔

بچوں میںاور بھی زیادہ کمی دیکھنے میں آئی۔ سال 2001 میں نئے انفیکشنز کے پانچ لاکھ سے زیادہ کیس تھے۔ لیکن سال 2012 تک یہ تعداد آدھی رہ گئی تھی، جو ڈھائی لاکھ سے کچھ زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کے مطابق بچوں میں شرح اموات اور انفیکشن کی شرح میں کمی کی وجہ اینٹی ریٹرو وائرل ادویات تک بہتر رسائی تھی۔ ان ادویات کی مدد سے ایچ آئی وائرس کو قابو میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

علاج کے بغیر ایچ آئی وی سے متاثرہ لوگوں کو ایڈز کا مرض لاحق ہو جاتا ہے جس سے عام بیماریاں بھی مہلک ہو جاتی ہیں۔

Image caption اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کے مطابق بچوں میں شرح اموات اور انفیکشن کی شرح میں کمی کی وجہ اینٹی ریٹرو وائرل دواؤں تک بہتر رسائی تھی جن سے ایچ آئی وی وائرس کو دبانے میں مدد ملتی ہے

رپورٹ کہتی ہے کہ سال 2012 کے آخر تک جنوبی افریقہ، یوگنڈا اور بھارت سمیت کئی اور وسطی آمدنی والے ممالک میں تقریباً ایک کروڑ لوگوں کو اینٹی ریٹرو وائرل علاج سے فائدہ حاصل ہو رہا تھا۔

علاج کی بہتر رسائی کی وجہ کمیونٹیز کو سستی اور آسانی سے ادویات کا ملنا اور زیادہ لوگوں کا مدد کے حصول کے لیے آگے آنا بتایا گیا ہے۔

يو این ایڈز کے مطابق سال 2015 تک ایڈز کی تباہی کو روکنے کے اس ملینیم ڈویلپمنٹ اہداف کی طرف دنیا ’آہستہ آہستہ بڑھ‘ رہی ہے۔

لیکن ادارے کا کہنا ہے سال 2015 تک ایچ آئی وی کے علاج کے ایک کروڑ 50 لاکھ لوگوں تک پہنچانے کے اس ہدف سے زیادہ لوگوں کو علاج کی سہولت مل سکتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے بھی اپنی ہدایات تبدیل کر دی ہیں جن کے تحت اور بھی لوگ علاج کے لیے اہل ہوں گے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جن لوگوں میں انفیکشن کا سب سے زیادہ خطرہ ہے، ان کو ایچ آئی وی کی خدمات مہیا کروانے کا کام سست رفتار سے ہو رہا ہے۔

ساتھ ہی رپورٹ میں عورتوں اور بچیوں کے خلاف جنسی تشدد سے نمٹنے کے لیے اور کام کرنے کی ضرورت کی بات کہی گئی ہے۔ خواتین اور بچیوں کو مردوں کی نسبت انفیکشن ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

طبی ادارے میڈسنز ساں فرانٹیئرز یعنی ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر ادارے کے صحت پالیسی کے مشیر بیو کولنز کا کہنا ہے کہ ’لاکھوں افراد خاص کر ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کو سستے داموں پر ایچ آئی وی کا علاج مہیا کرانے کی سمت میں کافی پیش رفت ہوئی ہے لیکن یہ آرام سے بیٹھنے کا وقت نہیں ہے ہمیں علاج کے لیے بہتر منصوبہ بندی، سستے اور بہترین ٹیسٹ اور خدمات کو جاری رکھنا ہو گا۔‘

اسی بارے میں