’امریکی خاتونِ اول کی شناخت چوری‘

ایک تحقیق کے نتیجے میں پتہ چلا ہے کہ ہیكروں نے امریکی خاتونِ اول مشل اوباما سمیت بہت سارے امریکیوں کے سوشل سکیورٹی نمبر چرا لیے ہیں۔

امریکہ میں سوشل سکتورٹی نمبر نو ہندسوں پر مبنی وہ نمبر ہوتا ہے، جو حکومت اپنے شہریوں اور مستقل اور عارضی باشندوں کو جاری کرتی ہے۔

اس نمبر کا استعمال پنشن ہولڈرز، سرکاری امداد حاصل کرنے والے افراد کے بارے میں معلومات جمع کرنے، بینک میں اکاؤنٹ کھولنے، کریڈٹ کارڈ یا قرض لینے اور کچھ دیگر کاموں کے لیے ہوتا ہے۔

صحافی برائن كریبز نے ان ہیكروں کا پتہ چلایا جو ان خفیہ معلومات کو انٹرنیٹ کے ذریعے فروخت کر رہے تھے۔ كریبز نے معلوم کیا کہ ان ہیکروں نے ڈیٹا کمپنیوں کے کارپوریٹ نیٹ ورک کے کمپیوٹروں میں نقب لگا کرمعلومات چرائیں۔

اس سال مارچ میں برائن كریبز، امریکی ایجنسی ایف بی آئی اور امریکی خفیہ سروس نے اس بات کی تحقیقات کرنی شروع کی کہ exposed.su نامی ویب سائٹ کس طرح کئی مشہور امریکیوں کے سوشل سکیورٹی نمبر اور دوسری معلومات حاصل کر رہی تھی۔

اس ویب سائٹ نے مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس، گلوکارہ بيونسے نولز، ریپر جے زی، ہالی وڈ اداکار ایشٹن كُچر اور کئی اور لوگوں کی معلومات انٹرنیٹ پر شائع کی تھی۔ یہ ویب سائٹ اب بند ہو چکی ہے۔

تحقیقات میں پتہ چلا کہ exposed.su نے یہ معلومات ایک اور ویب سائٹ سے خریدی تھیں۔ یہ ویب سائٹ اپنی تشہیر خفیہ معلومات کی منڈی کے طور پر کر رہی تھی۔ یہ ویب سائٹ ایک شخص کی معلومات آدھے ڈالر جتنی کم قیمت پر بیچ رہی تھی۔ اندازہ ہے کہ اس ویب سائٹ کے ذریعے تقریبا 40 لاکھ امریکیوں کی معلومات چوری کی گئیں۔

برائن كریبز نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا تھا کہ اس سال موسم گرما کے آغاز میں یہ ویب سائٹ ہی ہیک ہو گئی اور اس میں موجود معلومات چرا لی گئیں اور انھیں کئی لوگوں کو تقسیم کیا گیا۔

كریبز اور فریسك کمپیوٹر ماہر ایلیکس ہولڈن کی جانب سے اس ویب سائٹ کے ڈیٹا بیس کے تجزیے میں پتا چلا کہ شناخت یا شناخت سے متعلق جو معلومات یہ ویب سائٹ بیچ رہی تھی، وہ کئی ایسی امریکی کمپنیوں کے اندرونی نیٹ ورک کے ان کمپیوٹرز سے چرائی گئی تھیں جو ان معلومات کو جمع کرتی تھیں۔

برائن كریبز نے بتایا کہ لیكسس نیکسس، ڈن اینڈ بریڈسٹريٹ اور کرول کمپنیوں کے کمپیوٹر سے معلومات چوری کی گئی تھیں۔

مختلف کاروباروں اور کمپنیوں کو ممکنہ کاروباری ساتھیوں اور صارفین کے بارے میں ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے یہ تینوں کمپنیاں کاروبار کی دنیا میں مشہور ہیں۔

برائن كریبز نے اپنے بلاگ میں لکھا: ’ہیکنگ کی شکار تینوں کمپنیوں نے کہا ہے کہ وہ سرکاری حکام اور آزاد عدالتی کمپنیوں کے ساتھ مل کر یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آخر کس حد تک معلومات ہیک ہوئی ہیں۔‘

لیکن لیكسس نیكسس نے ایک بیان جاری کر کے اس بات سے انکار کیا کہ اس کا ڈیٹا افشا ہو گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے ’ہمیں اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ ہمارے صارفین کی معلومات تک کسی اور کی رسائی ہوئی ہے۔‘

ایف بی آئی کی ایک ترجمان نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ادارے برائن كریبز کی طرف سے دی گئی معلومات کی جانچ کر رہی ہے لیکن اس نے اس کے بارے میں مزید کچھ کہنے سے انکار کر دیا۔

اسی بارے میں