’انسان عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کا باعث ہے‘

Image caption رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ اس صدی میں سطحِ سمندر میں کم از کم 26 سنٹی میٹر اور زیادہ سے زیادہ 82 سنٹی میٹر کا اضافہ ہو گا

اقوامِ متحدہ کی طرف سے جاری ایک اہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 95 فیصد سائنس دانوں کا خیال ہے کہ 1950 کی دہائی سے انسان عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کا باعث ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ماحولیات کے لیے پینل یا انٹرنیشنل پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) کی تیار کردہ اس رپورٹ میں ماحولیات کی تبدیلی کے طبعی محرکات بیان کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق زمین، ہوا اور سمندر میں عالمی درجۂ حرارت کے اضافے میں کوئی شک نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 15 سالوں میں درجۂ حرارت کے اضافے میں دکھائی دینے والا وقفہ اتنا کم ہے کہ اس سے طویل مدتی رجحانات کا اندازہ نہیں ہوتا۔

اقوامِ متحدہ کے پینل نے خبردار کہا ہے کہ ماحول میں تپش پیدا کرنے والی گیسیں درجۂ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی نظام کے ہر پہلو میں تبدیلی کا باعث بنیں گی۔

سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں ایک ہفتے تک ہونے والے سرگرم مذاکرات کے بعد پالیسی سازوں کے لیے عالمی درجۂ حرارت کے طبعی سائنس پر مبنی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔

رپورٹ کے تیار کنندہ سٹاک ہوم میں آئی پی سی سی کے ورکنگ گروپ کے شریک چیئرمین پرفیسر ٹامس سٹوکر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی’ انسان اور ماحولیاتی نظام کے دو بڑے مرکزی وسائل، زمین اور پانی کو چینلج کرتی ہے۔ مختصراً یہ ہمارے سیارے کے لیے خطرہ ہے جو ہمارا واحد گھر ہے۔‘

رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ 1950 کی دہائی سے عالمی درجۂ حرارت میں آدھی ڈگری سے زیادہ اضافے کا واضح طور پر ذمہ دار انسان ہے۔

کرۂ ارض کے درجۂ حرارت میں اضافے کو سمجھنے کے سلسلے میں آئی پی سی سی کی جاری کردہ رپورٹ کو بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1950 کی دہائی سے مشاہدے میں آنے والی ماحولیاتی نظام میں تبدیلی کی ’مثال گذشتہ ہزاروں سال میں نہیں ملتی۔‘

گذشتہ 30 سالوں میں ہر دہائی بالترتیب دوسرے سے گرم رہی اور یہ عرصہ 1850 سے کسی بھی زمانے سے زیادہ گرم رہا اور شاید یہ عرصہ گذشتہ 1400 سالوں میں کسی بھی زمانے سے زیادہ گرم رہا۔

آئی پی سی سی کے ورکنگ گروپ کے ایک دوسرے شریک چیئرمین شِن داہے نے کہا: ’ ہمیں سائنس کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ فضا اور سمندر گرم ہو گئے ہیں، بڑی مقدار میں برف پگھل گئی ہے، سمندر کی اوسط سطح بڑھ گئی ہے اور ماحولیاتی تپش پیدا کرنے والے گیسوں کا مقدار بڑھ گئی ہے۔‘

پالیسی سازوں کے لیے رپورٹ کی سمری میں کہا گیا ہے کہ اب سطحِ سمندر میں گذشتہ 40 سال میں دیکھے گئے اضافے کی نسبت زیادہ اضافہ ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ اس صدی میں سطحِ سمندر میں کم از کم 26 سنٹی میٹر اور زیادہ سے زیادہ 82 سنٹی میٹر کا اضافہ ہو گا اور اس کا انحصار ماحول میں تپش پیدا کرنے والے گیسوں کے اخراج پر ہو گا۔

رپورٹ میں مستقبل میں درجۂ حرارت میں اضافے کا اندازہ لگایا گیا ہے جو کہ ہر حال میں بڑھے گا اور جو ممکنہ طور پر 2100 تک 1.5 ڈگری سنٹی گریڈ سے زیادہ بڑھ سکتا ہے۔

پروفیس ٹامس سٹوکر نے کہا: ’ہمیں تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ عالمی درجۂ حرارت میں 2100 تک ممکنہ طور پر 1.5 ڈگری سنٹی گریڈ سے زیادہ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں