چین: انٹرنیٹ کے بیس لاکھ سے زیادہ نگراں

Image caption چین کی سوشل نٹورکنگ سائٹ ويئبو 2010 میں شروع کی گئی تھی اور اس پر روزانہ دس کروڑ پیغامات پوسٹ کیے جاتے ہیں

حکومتِ چین نے بیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو انٹرنیٹ کی نگرانی کے لیے تعینات کیا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا نے یہ اطلاعات فراہم کی ہیں جبکہ مبصرین کے مطابق انٹرنیٹ پر سرکاری کنٹرول کی یہ اپنے آپ میں ایک منفرد کوشش ہے۔

دا بیجنگ نیوز کے مطابق نگرانی کرنے والے یہ ملازمین جنہیں انٹرنیٹ اوپینیئن اینالسٹ ( انٹرنیٹ پر موجود خیلات کے تجزیہ نگار) کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، سرکاری اور کاروباری دونوں شعبوں میں موجود ہیں۔

اطلاعات کے مطابق چین کے کروڑوں ویب صارفین میں حکومت پر نکتہ چینی کرنے اور اپنا غصہ ظاہر کرنے کے لیے مائیكرو بلاگز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

بیجنگ نیوز کی رپورٹ کے مطابق ان نگرانوں کو پوسٹس کو حذف کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ رپورٹ کے مطابق انہیں مائیكرو بلاگز پر عوام کی آراء کو یکجا کر کے تجزیہ کرنے تک محدود رہنا ہوتا ہے اور پالیسی سازوں کے لیے رپورٹ تیار کرنی ہوتی ہے۔

رپورٹ میں ان نگرانی کرنے والوں کے کام کرنے کے بارے میں دوسری معلومات بھی فراہم کی گئی ہيں۔

رپورٹ کے مطابق تھانگ چياؤتھاؤ گزشتہ تقریبا چھ ماہ سے نگرانی کرنے والے ایک ملازم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کہاں اور کس جگہ کام کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق: ’وہ روز اپنے کمپیوٹر میں ایک مخصوص ایپلیکیشن کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور طے شدہ منتخب لفظ ٹائپ کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اس سے منسلک منفی خیالات کو دیکھتے ہیں، ان کو یکجا کرتے ہیں اور ایک رپورٹ تیار کر کے اپنے گاہک کو بھیج دیتے ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق آفس میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر زیادہ جدید ہیں اور ہزاروں سرورز پر کام کرتے ہیں۔ یہ چین سے باہر کی ویب سائٹوں کی بھی نگرانی کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ چین انٹرنیٹ پولیس فورس کی صلاحیت کے بارے میں شاذ و نادر ہی رپورٹیں فراہم کراتا ہے۔

ان نگرانی کرنے والوں کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بیس لاکھ نگرانی کرنے والے ملازمین ان وسیع چینی فورس کا ایک حصہ ہیں جن پر چینی حکومت انٹرنیٹ کے کنٹرول کے معاملے میں اعتماد کرتی ہے۔

اخبار کے مطابق حکومت پہلی بار 14 سے 18 اکتوبر کے دوران ایک تربیتی پروگرام منعقد کر رہی ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ تربیت موجودہ نگراني کرنے والوں کے لیے ہے یا نئے لوگوں کے لیے۔

Image caption چین میں مائکرو بلاگنگ کا رواج زوروں پر ہے

اس تربیتی پروگرام کے آٹھ حصے ہوں گے جن کے ذریعے شرکاء کو تجزیہ کرنا اور آن لائن پوسٹنگ پر فیصلہ کرنا اور بحران کی صورت حال سے نمٹنا سکھایا جائے گا۔

چین میں سب سے زیادہ مقبول مائیكروبلاگنگ کی ویب سائٹ ويئبو 2010 میں شروع کی گئی تھی اور اب اس کے پچاس کروڑ اکاؤنٹ ہیں اور اس پر روزانہ دس کروڑ پیغام پوسٹ کیے جاتے ہیں۔

ان میں بہت سے موضوعات پر تبصرے کیے جاتے ہیں جن میں ذاتی پسند سے لے کر صحت، مشہور لوگوں کے بارے میں چیٹ، کھانے کی حفاظت جیسے مختلف قسم کے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان پر سیاسی طور پر حساس معاملات جیسے سرکاری بدعنوانی پر بھی تبصرے ہوتے ہیں اور ایسے تبصرے جو کہ سیاسی طور پر غلط خیال کیے جاتے ہیں انہیں باقاعدگی سے حذف کر دیا جاتا ہے۔

بی بی سی میں چینی سروس کے ڈاگ لی کا کہنا ہے کہ ’چین کا انٹرنیٹ دنیا کے سب سے زیادہ کنٹرول اور سینسرڈ انٹرنیٹ میں سے ایک ہے۔ ایسی ویب سائٹیں جو انقلابی نظر آتی ہیں انہیں بلاک کر دیا جاتا ہے۔ سیاسی طور سے حساس مواد کو مسلسل ہٹایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ سابق وزیراعظم وین جیا باؤ کے نام کو بھی اس وقت سینسر کر دیا گيا تھا جب انٹرنیٹ پر یہ افواہ گشت کر رہی تھی کہ ان کے خاندان کے افراد نے کافی وسائل حاصل کر رکھے ہیں۔‘

اسی بارے میں