2015 تک ملیریا ویکسین کی دستیابی کی امید

Image caption ملیریا سے بچاؤ کے لیے عالمی پیمانے پر کوششیں جاری ہیں

برطانوی دوا ساز کمپنی گلیکسو سمتھ کلائن نے ملیریا سے بچاؤ کی ویکسین کی تیاری کے لیے انتظامی اجازت طلب کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ تجرباتی بنیادوں پر ویکسین کے استعمال کے مثبت نتائج کے بعد دنیا میں ملیریا سے بچاؤ کی پہلی ویکسین کی تیاری کے لیے پرامید ہیں۔

ملیریا کا مرض مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے اور ہر برس دنیا میں لاکھوں افراد اس کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مرض کے خاتمے کی کوششوں میں یہ ویکسین ایک کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

براعظم افریقہ میں اس ویکسین کے ابتدائی تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ آر ٹی ایس ایس نام ویکسین کے استعمال سے بچوں میں ملیریا کے مرض میں تقریباً 50 فیصد کمی ہوئی، جب کہ شیرخوار بچوں میں یہ شرح 25 فیصد کے قریب تھی۔

گلیکسو سمتھ کلائن یہ ویکسین ’ملیریا ویکسین انیشی ایٹو‘ کے تحت بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی مالی امداد سے تیار کر رہی ہے۔

افریقی ملک برکینا فاسو میں اس ویکسین کے تجربات میں شریک ہلادو ٹنٹو کا کہنا ہے کہ ’ملیریا کے لاکھوں مریض ہمارے ہسپتالوں میں آتے ہیں۔ ہم مچھر دانیوں اور دیگر اقدامات کی مدد سے ملیریا سے تحفظ کی کوششیں تو کر رہے ہیں لیکن اس سے لڑنے کے لیے ہمیں مزید کچھ درکار ہے۔‘

اس ویکسین کے تجربات افریقہ کے سات ممالک کے ساڑھے 15 ہزار بچوں پر کیے گئے اور ان کے نتائج جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں منعقدہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔

گلیکسو سمتھ کلائن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی 2014 میں یورپی ادویہ ایجنسی میں انتظامی اجازت کے حصول کے لیے درخواست دے گی۔

بیان میں یہ امید بھی ظاہر کی گئی ہے کہ اگر لائسنس کی درخواست منظور ہوگئی تو عالمی ادارۂ صحت 2015 سے اس ویکسین کے استعمال کا مشورہ دے سکتا ہے۔

اسی بارے میں