امریکہ: پیٹنٹ کا تنازع، سام سنگ کی مصنوعات پر پابندی کا امکان

Image caption ابھی تک یہ واضح نہیں کہ امریکہ میں سیم سنگ کی کونسی مصنوعات کی فرخت پر پابندی عائد کی جائے گی

موبائل فون اور کمپیوٹر مصنوعات بنانے والی کمپنیوں سام سنگ اور ایپل کے درمیان پیٹنٹ کے مسئلے پر تنازعے کی وجہ سے امریکہ میں سام سنگ کی بعض مصنوعات پر پابندی لگ سکتی ہے۔

ایپل نے اگست کے اوائل میں امریکہ کے بین الاقوامی تجارتی کمیشن میں سام سنگ کے خلاف مقدمہ جیت لیا تھا۔

ایپل اور سام سنگ کو جج کا مشورہ

اس مقدمے میں سام سنگ کو ایپل کی موبائل ٹیکنالوجی کے دو پیٹنٹس کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تھا۔

اس کیس میں سام سنگ کی بعض مصنوعات کی امریکہ میں فروخت پر پابندی عائد کرنے کو کہا گیا تھا لیکن ایک اپیل کی وجہ سے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

اس تنازعے کی نگرانی کرنے والے ایک امریکی اہلکار نے سام سنگ کی اپیل مسترد کر دیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ امریکہ میں سام سنگ کی بعض مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے گی۔

امریکہ کے تجارتی نمائندے مائیکل فرومین نے کہا کہ ’پالیسی معاملات بشمول صارفین پر اثر اور کمپنیوں کے درمیان مارکیٹ میں مقابلے پر غور کرنے، ایجنسیوں سے مشاورت اور ان امور میں دلچسپی رکھنے والے پارٹیوں سے معلومات لینے کے بعد میں نے تجارتی کمیشن کے فیصلے کو حتمی قرار دیا ہے۔‘

ایپل اور سام سنگ کے درمیان سمارٹ فون اور ٹیبلٹ کی ٹچ سکرین پر انگلیوں کی نشاندہی اور آڈیو جیک کے کام کرنے کے طریقۂ کار پر پیٹنٹ کا تنازع ہے۔

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ امریکہ میں سام سنگ کی کون سی مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے گی۔

سام سنگ نے اپنی اپیل میں کہا تھا کہ اس نے اپنی ہی ٹیکنالوجی سے نئی مصنوعات تیار کی تھی اور ایپل کے پیٹنٹ طریقوں سے کوئی نقل نہیں کی۔

امریکی تجارتی کمیشن نے متنازع ٹیکنالوجی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے پہلے ہی سے طریقۂ کار کی منظوری دی ہے۔

یاد رہے کہ صدر براک اوباما نے امریکی تجارتی کمیشن کے اس حکم نامے کو رد کر دیا تھا جس میں ایپل کی مصنوعات پر پابندی لگانے کا کہا گیا تھا۔

صدر کی طرف سے ویٹو امریکی تجارتی کمیشن کے کسی معاملے پر گذشتہ 26 سال میں پہلا صدارتی ویٹو تھا جس میں پرانے آئی فونز اور آئی پیڈ پر پابندی کو ختم کیا گیا۔

ایپل اور سام سنگ کے درمیان پیٹنٹ کے مسائل پر گذشتہ کئی سالوں سے عدالتوں میں مقدمات چلتے رہے ہیں اور دس ممالک میں ان کے درمیان پیٹنٹ کے معاملے پر چپقلش رہی ہے۔

اسی بارے میں