دھڑکتے دلوں کے لیے نیا ’پیس میکر‘ ایجاد

نیا پیس میکر
Image caption س پیس میکر کو ایک نلکی کے ذریعے ران کی شریان کے راستے دل میں پہنچایا جاسکے گا

ایک امریکی کمپنی نے دل کو متحرک رکھنے والہ ایسا بےتار چھوٹا سا پیس میکر تیار کیا ہے جو بغیر کسی آپریشن کے انسانی دل میں داخل کیا جا سکےگا۔

امریکی کمپنی نیوسٹم کے پیس میکر کو یورپ میں استعمال کی اجازت مل گئی ہے اور اب یہ مریضوں کے دل میں نصب کیا جا سکے گا۔

یہ پیسر روایتی پیس میکر کے حجم کا صرف دس فیصد ہے اور اسے دل میں داخل کرنے کے لیے کسی آپریشن کی ضرورت نہیں ہوگی اور اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے صرف آدھ گھنٹہ درکار ہو گا۔

کسی مریض کو روایتی پیس میکر لگانے کے لیے اس کے جسم کا آپریشن کرکے جسم کے اندر ایسا خانہ تیار جاتاہے جہاں سے اسے دل سے جوڑا جا سکتا ہے۔

روایتی پیس میکر کی خرابی کی صورت اس کو نکالنے کے لیے بھی ایک آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ روایتی پیس میکر کے لیے جسم میں بنائے جانے والے خانے میں انفیکشن کا احتمال رہتا ہے۔

اس نئے پیس میکر کو بیٹری کے ذریعے متحرک رکھا جائےگا۔ پیس میکر کی بیٹری ٹرپل اے بیٹری سے بھی چھوٹی ہوگی اور یہ تیرہ برس تک کارآمد رہے گی۔

یورپی یونین نے اس پیس میکر کو منظور کر لیا ہے لیکن امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ابھی تک اس کی منظوری نہیں دی ہے۔ امریکہ میں کسی آلے کے استعمال سے پہلے اسے ایف ڈے اے کی منظوری لازمی ہوتی ہے۔

ایک ڈاکٹر نے جو اس پیس میکر کے تجربوں میں شریک رہے ہیں، اسے مستقبل کا پیسر قرار دیا ہے۔

انسانی دل کی رفتار کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے انسانی جسم میں پہلا پیس میکر 1958 میں نصب کیا گیا تھا۔

اس وقت دنیا میں چالیس لاکھ افراد کے دلوں میں پیس میکر نصب ہیں اور ہر سال اوسطاً سات لاکھ لوگوں کو پیس میکر لگائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں