نیند دماغ کو زہریلے مواد سے پاک کرتی ہے

Image caption سائنس دان خاصے عرصے سے اب بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ آخر نیند کا مقصد کیا ہے

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغ دن بھر کی سوچ بچار کے نتیجے میں پیدا ہونے والے زہریلے مواد کو نیند کی مدد سے پاک صاف کرتا ہے۔

امریکی سائنس دانوں کی ٹیم کا خیال ہے کہ نیند کی بنیادی وجہ ’فالتو مواد کو ٹھکانے لگانے والا نظام‘ ہے۔

یہ تحقیق مشہور جریدے سائنس میں شائع ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نیند کے دوران دماغی خلیے سکڑ جاتے ہیں جس سے ان کے درمیان خلا زیادہ وسیع ہو جاتا ہے۔ اس کے باعث وہاں مائع کو بہنے کا موقع ملتا ہے جو دماغ کو پاک صاف کر دیتا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض زہریلی پروٹینوں کو صاف کرنے میں ناکامی کی وجہ سے دماغی امراض پیدا ہوتے ہیں۔

سائنس دانوں کے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر جانور کیوں سوتے ہیں، حالانکہ اس طرح وہ آسانی سے شکاری جانوروں کا لقمہ بن سکتے ہیں۔

اس سے پہلے یہ دریافت ہوا تھا کہ نیند یادداشت کو پکا کرنے اور سیکھنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن یونیورسٹی آف روچسٹر میڈیکل سنٹر کی ٹیم سمجھتی ہے کہ نیند کا ایک بنیادی سبب ’صفائی ستھرائی‘ ہو سکتا ہے۔

سائنس دان ڈاکٹر میکن نیڈرگارڈ نے کہا: ’دماغ کے پاس خرچ کرنے کے لیے محدود مقدار میں توانائی موجود ہوتی ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ اسے فعالیت کی دو مختلف حالتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے، یعنی بیداری و ہوشیاری یا نیند اور صفائی ستھرائی۔

’آپ اسے گھر میں ہونے والی کسی دعوت کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ یا تو آپ مہمانوں کی خاطر مدارت کریں یا پھر گھر کی صفائی کریں۔ آپ دونوں کام بیک وقت نہیں کر سکتے۔‘

اس تحقیق سے پہلے گذشتہ سال یہ دریافت ہوا تھا کہ دماغ کے اندر نکاسی کے پائپ موجود ہوتے ہیں جو فالتو مواد کو دماغ سے باہر نکال دیتے ہیں۔ اسے گلِم فیٹک نظام کہا جاتا ہے۔

سائنس دانوں نے چوہوں کے دماغ کا مشاہدہ کر کے معلوم کیا تھا کہ گلِم فیٹک نظام اس وقت دس گنا زیادہ فعال ہو جاتا ہے جب چوہے سو رہے ہوں۔

دماغ کے خلیے نیند کے دوران سکڑ جاتے ہیں۔ اس سے خلیوں کے درمیان موجود خلا پھیل جاتا ہے، جس سے دماغ کے اندر موجود مائع کو وہاں سرایت کرنے اور فاسد مواد کو بہا لے جانے کا موقع مل جاتا ہے۔

ڈاکٹر نیڈرگار کہتی ہیں کہ یہ زندہ رہنے کے لیے ’بے حد اہم‘ فعل ہے، لیکن اسے دماغ کی بیداری کی حالت میں سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔

بے خوابی یادداشت پر مضر اثر ڈالتی ہے

اچھی نیند سے دل کے دورے کا خطرہ کم

ڈاکٹر نیل سٹینلی نیند کے ماہر ہیں۔ انھوں نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’اس سے قبل نیند کی نفسیاتی وجوہات کے بارے میں خاصی معلومات موجود تھیں، یعنی یادداشت اور سیکھنے کے عمل میں مدد، لیکن یہ تحقیق نیند کی اصل جسمانی اور کیمیائی وجہ بیان کرتی ہے۔ یہ بات زیادہ اہم ہے۔‘

ایلزہائمرز یا پارکنسنز ڈزیز جیسی بہت سی دماغی بیماریاں ممکنہ طور پر دماغ میں نقصان دہ پروٹینوں کے بتدریج اضافے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ اس کی وجہ دماغ کے نکاسی کے نظام میں خرابی ہو، لیکن اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں