سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ برفانی انسان ییٹی بھورے ریچھ کی نسل سے تعلق رکھتا ہے

Image caption بہت سے لوگوں نے دعوے کیے ہیں کہ انھوں نے ہمالیہ میں ایک دیو ہیکل انسان نما جانور کو دیکھا ہے

ایک برطانوی سائنس دان نے کہا ہے کہ ان کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ہمالیہ کا دیومالائی دیوہیکل انسان دراصل بھورے ریچھ کی ایک قسم سے تعلق رکھتا ہے۔

آکسفرڈ یونیورسٹی کی جینیٹکس کے پروفیسر برائن سائیکس نے بالوں کے نمونوں میں ڈی این اے کا تجزیہ کر کے معلوم کیا کہ یہ ڈی این اے ممکنہ طور پر ایک قدیم قسم کے بھورے اور برفانی ریچھ کی دوغلی نسل کا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں ییٹی یا ’مائٹی ہمالین مین‘ کے بارے میں غلط فہمی اس لیے پیدا ہوئی کہ یہ جانور برفانی ریچھ اور بھورے بھالو کی دوغلی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔

پروفیسر سائیکس نے بی بی سی کو بتایا کہ ییٹی کے تصور کے پیچھے ایک اصلی جانور موجود ہے۔

انھوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ریچھ، جسے کسی نے نہیں دیکھا، اب بھی پایا جاتا ہو، اور اس کے اندر برفانی ریچھ کی بہت سی خصوصیات موجود ہوں۔

’یہ کسی قسم کا دوغلا جانور ہو سکتا ہے جس کا رویہ عام ریچھوں سے مختلف ہے۔ اور یہی بات اسے دیکھنے کا دعویٰ کرنے والے لوگ کرتے ہیں۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہی اس معمے کا حل ہو سکتا ہے۔‘

پروفیسر سائیکس نے دو غیر شناخت شدہ جانوروں کے بالوں کے نمونوں پر ڈی اے ٹیسٹ کیا۔ ایک کا تعلق شمالی بھارتی ریاست لداخ سے تھا، جب کہ دوسرا نمونہ 1300 کلومیٹر دور مغربی بھوٹان سے ملا تھا۔‘

ان نمونوں سے حاصل شدہ ڈی این اے کو دوسرے جانوروں کے ڈی این اے کے ڈیٹا بیس سے ملایا گیا۔ پروفیسر سائیکس نے معلوم کیا کہ ان میں سے ایک نمونہ ناروے سے ملنے والے ایک قدیم برفانی ریچھ کے جبڑے کی ہڈی میں پائے جانے والے ڈی این اے سے سو فیصد ملتا ہے۔ اس کی عمر

40 ہزار سال اور ایک لاکھ 20 ہزار سال کے درمیان ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب برفانی ریچھ اور بھورے ریچھ کی نسلیں الگ ہو رہی تھیں۔

ییٹی کو ابامینل سنومین بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بن مانس کی طرح کا جانور ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نیپال اور تبت کے دور دراز برف پوش پہاڑی سلسلوں میں رہتا ہے۔

اس کے وجود کے ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کے باجود ییٹی کا تصور نیپال کے علاوہ مغربی دنیا میں بھی عام ہے، اور اس موضوع پر کئی فلمیں بھی بنائی جا چکی ہیں۔

پروفیسر سائیکس کہتے ہیں کہ وہ نہیں سمجھتے کہ قدیم برفانی ریچھ ہمالیہ میں مٹرگشت کر رہے تھے، البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہمالیہ میں بھورے ریچھ کی کوئی ایسی نسل پائی جاتی ہو جو برفانی ریچھ سے نکلی ہو۔

2008 میں امریکی سائنس دانوں نے چند بالوں کا تجزیہ کیا تھا جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ ییٹی کے ہیں۔ یہ بال شمال مشرقی بھارتی ریاست میگھالے سے ملے تھے۔ لیکن معلوم ہوا کہ یہ بال دراصل ایک پہاڑی بکری کے ہیں۔

اسی بارے میں