بوٹولینم اور سنکھیا جیسے خطرناک زہر علاج میں معاون

آج کے دور میں ہمیں تكالیف، درد اور بیماریوں سے چھٹکارا دلانے کے لیے کئی طرح کی ادویات دستیاب ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان میں سے کئی ادویات انتہائی خطرناک زہروں سے بنائی گئی ہیں۔

گزشتہ چند دہائیوں سے چہرے کی جھریاں مٹانے کے لیے استعمال ہونے والی بوٹوکس ایسی ہی ایک دوا ہے۔

بوٹوکس دراصل ’بوٹولینم ٹاکسن‘ نامی زہر ہے جسے دنیا میں دریافت ہونے والا سب سے زہریلا مادہ قرار دیا جاتا ہے۔

اس کے کچھ چمچے برطانیہ میں موجود ہر شخص کو مارنے کے لیے کافی ہیں اور چند کلوگرام سے زمین پر انسان کی پوری آبادی ختم ہو سکتی ہے۔

یہ اتنا خطرناک ہے کہ اسے اب بھی صرف عسکری اداروں میں ہی تیار کیا جاتا ہے اور اس کی فی کلوگرام قیمت ایک ہزار کھرب پاؤنڈ ہے۔

تاہم اس کے باوجود بوٹوكس کی مانگ میں کمی نہیں آتی اور لوگ آج بھی اپنی پیشانی میں اس کے انجکشن لگوانے کے لیے خطیر رقم ادا کرتے ہیں۔

بوٹولینم اعصاب پر اثر کرنے والا زہر ہے جو کہ اعصاب میں داخل ہو کر اہم پروٹین تباہ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے اعصاب اور بافتوں میں رابطہ منقطع ہو جاتا ہے اور انسان موت کا شکار ہو جاتا ہے۔

چہرے کی جھریاں ختم کرنے کے عمل میں اس کا استعمال بھی اس کی اعصاب شکن صلاحیت کی وجہ سے ہی ہوتا ہے اور یہ پیشانی پر شکنیں پیدا کرنے والے اعصاب کو تباہ کر دیتا ہے جس سے جھریاں بننے کا عمل رک جاتا ہے۔

Image caption بوٹولینم چہرے پر شکنیں پیدا کرنے والے اعصاب کو تباہ کر دیتا ہے

تاہم اس کے لیے بوٹولینم کے ایک گرام کا چند ارب واں حصہ استعمال کیا جاتا ہے اور اسے بھی پانی میں حل کر کے ہی جلد میں داخل کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ بوٹولینم ٹاکسن کا واحد استعمال نہیں بلکہ اسے آنکھوں کے بھینگے پن اور دردِ شقیقہ سے لے کر پسینے کی زیادتی اور مثانے کی تکلیف سمیت بیس مختلف بیماریوں کے علاج میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی طرح ایک اور زہر نے دنیا میں ادویات کی صنعت کو اس کی جدید شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے جسے ہم سنکھیا کے نام سے جانتے ہیں۔

برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ کے دور میں زندگی کا بیمہ کروانے کا چلن شروع ہوا تھا اور اسی رجحان کی وجہ سے زہر کے ذریعے قتل کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا تھا۔

ایسی ہی ایک قاتلہ میری این کاٹن تھیں جن پر 1873 میں متعدد افراد کو قتل کر کے ان کے بیمے کی رقم حاصل کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔

میری این کاٹن کے سولہ رشتہ دار اور دوست اس زمانے میں پیٹ کی تکالیف کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے اور ان سب کی ہلاکت کی وجہ میری کی جانب سے انہیں دیا جانے والا سنکھیا ہی تھا۔

سنکھیا یا آرسنک دراصل ایک معدن ہے۔ یہ بے ذائقہ ہوتا ہے اور گرم پانی میں حل ہوجاتا ہے اور ہلاک کرنے کے لیے اس کے ایک اونس کا سوواں حصہ بھی کافی ہوتا ہے۔

19 ویں صدی میں اسے چوہوں کے زہر کے طور پر فروخت کیا جاتا تھا۔ اس وقت نہ صرف یہ سستا تھا بلکہ باآسانی دستیاب بھی تھا۔

میری این کاٹن کے مقدمے کے بعد ہی برطانیہ میں آرسنك قانون بنا اور پھر 1868 میں فارمیسی کا قانون لاگو ہوا جس کے مطابق صرف اہل دوا خانے ہی زہریلے مادے بیچ سکتے ہیں۔

اس طرح زہر کے ذریعے قتل کے واقعات اور زہر خورانی کے حادثوں نے ہی آج کے دور میں ادویات کے کاروبار کو اس کی موجودہ شکل دی اور کبھی قاتلوں کا ہتھیار رہنے والا سنکھیا اب کینسر کے علاج میں استعمال ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں