آسٹریلیا درختوں کے ذریعے سونے کی تلاش

ایک کہاوت ہے کہ کیا پیسے درختوں پر اگتے ہیں؟ لیکن سائسدانوں نے ایک نئی تحقیق سے ثابت کر دیا ہے کہ واقعی سونا بعض درختوں کے پتوں میں پایا جاتا ہے۔

آسٹریلیا کےمحققین کا کہنا ہے کہ یوکلپٹس کے درخت کے پتوں میں سونے کے ذرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمین میں سونے کے ذخائر موجود ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے سونے کے ذخائر کا پتا لگانے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔

یہ تحقیق حال ہی میں سائنسی جریدے جرنل آف نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہوئی ہے۔

ڈاکٹر میل لنٹرن جیوکیمسٹ ہیں اور آسٹریلیا کے کامن ویلتھ سائٹیفک اور انڈسٹریل ریسرچ آرگنائزیش کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ایسی مشکل جگہوں پر سونے کے ذخائر دریافت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں جن میں آبائی گزرگاہیں اور ریتلے میدان شامل ہیں جہاں پر انتہائی گہرائی میں سونے کے ذخائر موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ایسا کرنے میں درخت ان کی مدد کر رہے ہیں۔

یوکلپٹس درخت کے اردگرد زمین میں سونے کے ذرات پائے گئے اور محققین نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ درخت سونے کے ذرات کو جذب کر رہا ہے۔

آسٹریلیا میں بنائی گئی ایک مشین سے، جس میں ریڈیائی لہروں استعمال کی جاتی ہیں، پتہ چلا کہ درخت کی شاخوں، پتوں اور چھال میں سونے کے ذرات موجود ہیں۔

یہ درخت پانی کے ساتھ زمین سے سونے کے ذرات بھی جذب کرتا ہے۔

ڈاکٹر لنٹرن نے کہا کہ ان کے حساب کے مطابق کسی جگہ سونے کے ذخیرے کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے پانچ سو درخت لگانے پڑیں گے۔