زمین سے 30 ارب نوری سال دور کہکشاں کی دریافت

Image caption ابھی تک کی معلومات کے مطابق سب سے دور واقع کہکشاں کا خاکہ

ماہر فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کہا ہے کہ انھیں اب تک کی سب سے دور موجود کہکشاں کا پتہ چلا ہے۔

یہ کہکشاں زمین سے قریب 30 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے بگ بینگ کے فوری بعد والی مدت کی وضاحت ہوگی۔

ماہر فلکیات کا یہ مطالعہ سائنس کے معروف جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہوا ہے۔

اس نئی کہکشاں کو ہبل خلائی دوربین کے ذریعے دیکھا گیا ہے اور اس کے فاصلے کی تصدیق ہوائی میں موجود کیک آبزرویٹری میں کی گئی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ چونکہ روشنی کو کائنات کے باہری سرے سے ہم تک پہنچنے میں کافی وقت لگتا ہے اس لیے ایک اندازے کے مطابق یہ کہکشاں قریب 13 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہے (لیکن چونکہ یہ کائنات مستقل پھیل رہی ہے اس لیے زمین سے اس کا فاصلہ 30 ارب نوری سال ہوگا)

اس مطالعے کے اہم محقق اور امریکہ کی ٹیکساس یونیورسٹی کے سٹیون فنکلسٹین نے کہا ’ابھی تک ہمیں جتنی بھی کہکشاں کا پتہ چلا ہے ان میں یہ سب سے دور واقع ہے۔ ہم اس کہکشاں کو اس لیے دیکھ پا رہے ہیں کیونکہ یہ بگ بینگ (کائنات کے وجود میں آنے کا نظریہ) کے 70 کروڑ سال کے بعد وجود میں آئی ہے۔‘

اس نئی کہکشاں کو زیڈ 8 جی این ڈی 5296 کا نام دیا گیا ہے۔

ماہر فلکیات نے زمین سے اس کے فاصلے کا تخمینہ اس کے رنگ کے تجزیے کے بعد کیا ہے۔

Image caption تیزی سے پھیلتی کائنات میں فاصلے کی نوری سال میں پیمائش ہوتی ہے

چونکہ یہ کائنات پھیل رہی ہے اور ہر چیز ہم سے دور ہو رہی ہے اس لیے روشنی کی لہریں بھی پھیل رہی ہیں اور اس کے سبب چیزیں ہمیں اپنے اصل سے زیادہ سرخ نظر آتی ہیں۔

ماہر فلکیات رنگوں میں آنے والی ظاہری تبدیلی کو ایک پیمانے پر جانچتے ہیں جسے ریڈ شفٹ کہا جاتا ہے۔

اس نئی کہکشاں کے تعلق سے یہ پایا گیا کہ اس کی ریڈشفٹ 7.51 تھی۔ اس سے قبل جس کہکشاں میں سب سے زیادہ ریڈ شفٹ دیکھی گئی تھی اس کا درجہ 7.21 تھا۔

اس طرح یہ ابھی تک کی سب سے زیادہ فاصلے پر نظر آنے والی کہکشاں ہے۔

اس نئی تحقیق پر اظہار خیال کرتے ہوئے گرینچ کی رائل رصد گاہ کے ماہر فلکیات ڈاکٹر میرک کوکولا نے بی بی سی کو بتایا ’دوسرے شواہد کے ساتھ اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ حیرت انگیز طور پر یہ کہکشاں کائنات کے ابتدائی زمانے میں بننے لگی تھی۔‘

انھوں نے کہا ’تاروں کے اس جھرمٹ کے وجود میں آنے کی شرح سے شاید اس کے اس قدر جلدی بننے کا کوئی راز ظاہر ہو سکے۔‘

ناٹنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر الفانسو سلامینکا نے کہ ’یہ ایک اہم قدم ہے لیکن ہمیں مزید کی تلاش جاری رکھنی ہوگی۔ کیونکہ ہم جتنے آگے جائیں گے کائنات میں بننے والے سب سے پہلے ستارے کے بارے میں جاننے کے قریب پہنچیں گے۔‘

اسی بارے میں