’خوراک میں چربی کم کرنا موٹاپے کے لیے ناکافی‘

Image caption محکمۂ صحت کے مطابق ایک دن میں ایک مرد کو تیس گرام جبکہ ایک عورت کو بیس گرام سے زیادہ چربی نہیں کھانی چاہیے

برطانیہ میں ایک ماہرِ صحت نے کہا ہے کہ خوراک تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے خوراک میں چربی کی مقدار کام کرنے کا عہد موٹاپے کے خلاف جدوجہد میں ’سمندر میں قطرے‘ کے برابر ہے۔

برطانیہ کے محکمۂ صحت کے مطابق لوگوں کی خوراک میں چربی کی مقدار پندرہ فیصد کم کرنے سے وقت سے پہلے ہونے والی سالانہ 2600 اموات کو روکا جا سکے گا۔ یہ اموات دل کے عارضے اور سٹروک کی وجہ سے ہوتیں ہیں۔

محکمۂ صحت نے کہا کہ ملک کی خوراک اور خوردہ صنعت میں کام کرنے والی تقریباً آدھی کمپنیوں نے خوراک میں چربی کم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

دوسری جانب پبلک ہیلتھ فیکلٹی کے صدر پروفیسر جان آشٹن نے کہا کہ اس طریقۂ کار کی ’کوئی ساکھ‘ نہیں ہے۔

پروفیسر آشٹن نے کہا ’بعض کمپنیاں پہلے سے کم چربی والی خوارک تیار کر رہی ہیں‘ لیکن یہ معاہدہ کافی نہیں ہے۔

’وہ چربی کم کرنے کے بعد خوراک کو لذیذ بنانے کے لیے جو نمک اور چینی استعمال کرتے ہیں اس کی مقدار کو بھی کم کریں‘۔

انھوں نے کمپنیوں کے معاہدے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’ جس قدر موٹاپا عام ہے اس کے مقابلے میں کمپنیوں کا اعلان سمندر میں قطرے کے برابر ہے‘۔

پروفیسر آشٹن نے کہا ’ ہم اس مسئلے کے حل کے لیے رضاکارانہ طریقۂ کار پر انحصار نہیں کر سکتے‘۔

ان کا کہنا تھا ’اب اس کی کوئی ساکھ نہیں ہے اور اسے صنعت کی جانب سے اپنے آپ کو بچانے کی ایک کمزور کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے‘۔

خوراک میں چربی کم کرنے کے سلسلے میں نیسلے نے کٹ کیٹ بسکٹ، موری سن نے اپنے سپریڈز اور سب وے نے اپنے بسکٹ اور کرسپس میں تبدیلی لانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

اس رضاکارانہ معاہدے میں شریک دیگر کمپنیوں میں ٹیسکو، سینز بری، الدی اور مانڈیلیز انٹرنیشنل شامل ہیں۔

برطانوی محکمۂ صحت کے مطابق ایک دن میں ایک مرد کو 30 جبکہ ایک عورت کو 20 گرام سے زیادہ چربی نہیں کھانی چاہیے۔

اسی بارے میں