زمین کے حجم کا پگھلتا ہوا سیارہ دریافت

Image caption ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سیارہ اپنے ستارے کی حرکت سے بندھا ہوا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ایک رخ مستقل ستارے کی جانب رہتا ہے جب کہ دوسرا ہمیشہ مخالف سمت میں۔ گویا آدھے سیارے پر ہمہ وقت دن رہتا ہے اور آدھے پر مسلسل رات

زمین سے چار سو نوری سال کے فاصلے پر زمین کے وزن اور کثافت والا ایک سیارہ دریافت ہوا ہے جس کا ایک حصہ اتنا گرم ہے کہ وہاں ہر چیز پگھلی ہوئی ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ کیپلر 78بی نامی یہ سیارہ ہماری زمین کی مانند بڑی حد تک پتھر اور لوہے پر مشتمل ہے۔

لیکن اس سیارے کی اپنے ستارے سے انتہائی قربت نے سائنس دانوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ اس کا اپنے ستارے سے فاصلہ زمین کے سورج سے فاصلے کا صرف ایک فیصد ہے۔

یہ تحقیق ماہرینِ فلکیات کی دو ٹیموں نے کی ہے اور یہ سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سیارہ اپنے ستارے کی حرکت سے بندھا ہوا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ایک رخ مستقل ستارے کی جانب رہتا ہے جب کہ دوسرا ہمیشہ مخالف سمت میں۔ گویا آدھے سیارے پر ہمہ وقت دن رہتا ہے اور آدھے پر مسلسل رات۔

دن والے رخ پر درجۂ حرارت دو ہزار ڈگری سنٹی گریڈ تک ہوتا ہے، جس پر کسی قسم کی زندگی کی موجودگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے فزکس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جوش وِن کہتے ہیں: ’میرا خیال ہے کہ یہ بڑی آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ دن والا رخ پگھلا ہوا ہے۔ تاہم رات والے رخ کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا کہ آیا وہ بھی پگھلا ہوا ہے یا نہیں (سیارے کے رات والے رخ کا درجۂ حرارت معلوم نہیں ہے)۔‘

کیپلر 78بی سیاروں کے ایک ایسے درجے سے تعلق رکھتا ہے جنھیں ’الٹرا شارٹ پیریڈ‘ سیارے کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا اپنے ستاروں سے فاصلہ بہت کم ہوتا ہے اور یہ اپنے ستارے کے گرد 12 گھنٹے سے کم وقت میں ایک چکر مکمل کرتے ہیں۔

انھیں کیپلر خلائی دوربین نے حال ہی میں دریافت کیا تھا۔

لیکن سیاروں کی تشکیل کے حالیہ نظریات کے مطابق کیپلر 78بی نہ تو اپنے ستارے سے اس قدر قریب وجود میں آ سکتا تھا اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ وہ کہیں اور سے گردش کرتا ہوا اس مدار پر پہنچ گیا ہو۔

ہارورڈ سمتھ سونیئن سنٹر برائے فلکیاتی طبیعات سے منسلک اس تحقیق کے ایک مصنف دمیتر ساسیلوف کہتے ہیں: ’کیپلر 78بی بہت جلد اپنے ستارے کے اندر گر کر فنا ہو جائے گا۔

’یہ جہاں موجود ہے وہاں تشکیل نہیں پا سکتا تھا، کیوں کہ ستارے کے اندر سیارے نہیں بن سکتے۔ یہ کہیں اور سے ہجرت کر بھی نہیں آ سکتا کیوں کہ اس کا راستہ اسے سیدھا ستارے کے اندر لے جاتا۔‘

وہ کہتے ہیں: ’یہ سیارہ ایک معما ہے۔‘

کیپلر 78بی کے مدار اور حجم کا اندازہ لگانے کے لیے ایک خاص تکنیک استعمال کی گئی۔ جب سیارہ گردش کرتے ہوئے اپنے ستارے کے سامنے آتا ہے تو ستارے کی روشنی کے تجزیے سے اس کے وجود کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔

تحقیق کاروں نے دیکھا کہ جب بھی سیارہ ستارے کے سامنے آتا ہے تو ستارے کی روشنی تھوڑی سی مدھم پڑ جاتی ہے۔ روشنی کی مقدار میں اس کمی سے سیارے کے حجم کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے۔ روشنی جتنی کم ہو گی، سیارہ اتنا بڑا ہو گا۔

اس کے علاوہ سیارہ اپنے ستارے کی حرکت میں بھی معمولی تبدیلی کا باعث بنتا ہے، جس کی مدد سے اس کا وزن معلوم کیا جا سکتا ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ کیپلر 78بی زمین سے 1.2 گنا بڑا اور 1.7 گنا بھاری ہے۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کیپلر 78بی کے دن گنے جا چکے ہیں۔ ستارے کی طاقتور کششِ ثقل کی لہریں اسے اپنی جانب کھینچتی رہیں گی، اور بالآخر اسے چیر پھاڑ کر رکھ دیں گی۔

اسی بارے میں