تھوریم کو نئے ایندھن کے طور پر متعارف کروانے کی استدعا

Image caption دنیا مستقبل میں ایندھن کی فراہمی کے نئے راستے تلاش کر رہی ہے: ہان بلکس

اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے سابق معائنہ کار ہان بلکس نے کیمیائی سائنس دانوں سے استدعا کی ہے کہ وہ تھوریم کو نئے ایندھن کے طور پر متعارف کروائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ریکٹروں میں تابکار عنصر تھوریم یورینیئم سے زیادہ محفوظ ثابت ہو گا۔

البتہ ہان بلکس کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کی پیداوار کے لیے تھوریم کا استعمال زیادہ مشکل ہو گا۔

اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے سابق معائنہ کار کے اس بیان کے بعد تھوریم کے استعمال میں دلچسپی میں اضافہ ہو گا تاہم اس کے مخالفین نے متنبہ کیا ہے کہ نئے ریکٹرز بنانے میں عوام کے فنڈز ضائع ہو سکتے ہیں۔

سویڈن کے سابق وزیرِ خارجہ ہان بلکس نے بی بی سی نیوز کو بتایا ’میں وکیل ہوں، سائنس دان نہیں تاہم میری رائے میں ہمیں تھوریم کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا ’مجھے احساس ہے کہ ابھی بہت سی رکاوٹوں کو عبور کرنا باقی ہے لیکن اس کے بہت زیادہ فائدے ہوں گے۔‘

ہان بلکس نے کہا ’مجھے بتایا گیا ہے کہ ریکٹروں میں تھوریم کا استعمال محفوظ رہے گا اور اس سے بم بنانا تقریباً نا ممکن ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ دنیا مستقبل میں ایندھن کی فراہمی کے نئے راستے تلاش کر رہی ہے اور اس لیے یہ بہت ضروری عوامل ہیں۔

برطانیہ کی قومی کیمیائی لیبارٹری (این این ایل) کے سائنس دانوں کو حکومت کی جانب سے بھارت میں قائم تھوریم کے ریکٹر اور ناروے میں ٹیسٹ پروگرام سے حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ ایک پرائیوٹ کمپنی ’تھور انرجی‘ میں تھوریم کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

کمپنی کو امید ہے کہ اسے پانی سے ٹھنڈے کیے جانے والے ریکٹروں میں یورینیئم کے علاوہ تھوریم کا لائسنس بھی مل جائے گا۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ کیمیائی آپریٹرز کے لیے ایندھن بڑھانے کا اختیار فائدہ مند ہو گا کیونکہ تھوریم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ یورینیئم سے تین گنا وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔

برطانیہ کی قومی کیمیائی لیبارٹری (این این ایل) کا عملہ مسکڈ اوکسائیڈ ایندھن کی جگہ تھوریم کے استعمال کا مشورہ دے رہا ہے۔

این این ایل بھارتی حکام کو تھوریم ریکٹر بنانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

تھور انرجی کے چیف ایگزیکٹو نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ دنیا میں بہت زیادہ تھوریم پائی جاتی ہے۔

اس سے پہلے پروفیسر کارلو نے بی بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ تھوریم انسانی مداخلت کے بغیر خود کو بند کرنے کے قابل ہو گی۔

ان کا کہنا تھا اس کی طویل مدت ذیلی پیداوار مضر نہیں ہے: ’ہمارا اندازہ ہے کہ چار سے پانچ سو سال کے اندر اندر تمام تابکاری ختم ہو جائے گی۔‘

واضح رہے کہ کینیڈا ، چین، جرمنی، بھارت، ہالینڈ، برطانیہ اور امریکہ ماضی میں تھوریم کو ایندھن کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کا تجربہ کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں