کتے دم کیوں ہلاتے ہیں؟

Image caption سائنس دانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر کتے کی دم دائیں جانب ہل رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کتا خوش ہے

کتوں کا دم ہلانا عام بات ہے لیکن کیا ان کے دم ہلانے کا ان کے دماغ سے کوئی تعلق ہے؟

سائنس دانوں نے کتوں کے دم ہلانے کے دوران ان کے دماغ میں جاری ہلچل کے بارے میں تحقیق کی ہے جس میں نئی باتیں سامنے آئی ہیں۔

پہلے کی تحقیق میں یہ معلومات سامنے آئی تھی کہ جب کتے خوش ہوتے ہیں تو وہ اپنی دم دائیں طرف زیادہ ہلاتے ہیں اور جب پریشان ہوتے ہیں تو وہ اپنی دم زیادہ تر بائيں جانب ہلاتے ہیں۔

اس نئی تحقیق کی بنیاد پر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کتے اپنے ساتھی کتے کے دم ہلانے کے اس فرق کو پہچان کر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔

یہ تحقیق علم حیات کی ایک میگزین میں شائع ہوئی ہے۔

اٹلی کی ٹورنٹو یونیورسٹی کے اعصابی سائنس داں پروفیسر جارجيو ویلورٹگارا نے اس بارے میں کہا: ’ہمیں یہ معلوم ہے کہ انسانوں میں دماغ کا داياں اور بایاں حصہ فرطِ جذبات میں مختلف کردار ادا کرتا ہے جس سے مثبت اور منفی احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں ہم نے دوسرے جانداروں میں بھی یہی جاننے کی کوشش کی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’انسانوں کی طرح ہی کتوں میں بھی دماغ کا بایاں حصہ دائیں طرف ہونے والی ہلچل کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے اور دماغ کے دونوں حصے احساسات کے اظہار میں مختلف کردار ادا کرتے ہیں۔‘

سائنس دانوں نے کسی کتے کی ٹیڑھی دم پر دوسرے کتے کے ردعمل کو جاننے کے لیے جانوروں کی نگرانی کی اور پالتو کتوں کو دوسرے کتوں کی فلمیں بھی دکھائیں۔

Image caption نئی تحقیق سے کتوں کے مالکان، ڈاکٹروں اور کتوں کو تربیت دینے والوں کو ان کے جذبات و احساسات کے بارے میں زیادہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے پالتو کتوں کے دل کی دھڑکن کی جانچ کی اور ان کے رویوں کا تجزیہ بھی کیا۔

پروفیسر ویلورٹگارا نے کہا: ’ہم نے کتوں کو دوسرے کتوں کی فلمیں دكھائیں اور کسی پریشان کن صورت حال سے نجات حاصل کرنے کی ان کوشش کے دوران ان کی حرکات و سکنات کا جائزہ لیا اور ان کی دم کے دائیں یا بائیں جانب زیادہ رہنے کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔‘

انھوں نے کہا: ’جب کتوں نے احساس سے عاری کسی کتے کو اپنی دم دائیں جانب ہلاتے دیکھا تو وہ پوری طرح مطمئن کھڑے رہے۔

’لیکن جیسے ہی کتوں نے بائیں جانب دم ہلانے والے کتے کو دیکھا تو ان کے دل کی دھڑکن بڑھ گئی اور وہ فکر مند ہو گئے۔‘

پروفیسر ویلورٹگارا نے کہا کہ ان کے اس رد عمل سے یہ احساس نہیں ہوتا کہ کتے حرکات و سکنات کے ذریعہ آپس میں دانستہ طور پر بات چیت کر رہے تھے۔

اس کے برعکس انہیں یہ احساس ہوا کہ کتوں نے اپنے تجربات سے یہ سیکھا ہے کہ انہیں کون سی حرکت پر فکرمند ہونا چاہیے اور کون سی حرکت پر نہیں۔

محققوں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج کتوں کے مالکان، ڈاکٹروں اور کتوں کو تربیت دینے والوں کو ان کے جذبات و احساسات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے میں امداد فراہم کریں گے۔

واضح رہے کہ یہ کتوں کی دم کی حرکت کے متعلق پہلی تحقیق نہیں ہے اس سے پہلے لنکن یونیورسٹی کے محققوں نے بھی گذشتہ سال ایسی ہی ایک تحقیق کی تھی۔

کتوں کے رویے کے ماہر جان بریڈ شا کے مطابق مختلف جائزوں میں کتوں کی حرکات و سکنات کی ابھی تک پوری طرح سے تشریح نہیں کی جا سکی ہے۔

اسی بارے میں