مشینی ہاتھ کے لیے 2013 کا ٹیکنالوجی ایوارڈ

Image caption اس ہاتھ کی مدد سے لوگ اپنے کام کے دوران بھاری اشیا اٹھا سکتے ہیں

ایک امریکی یونیورسٹی کے طلبہ کو بیٹری سے کام کرنے والے مشینی ہاتھ کی تیاری پر سنہ 2013 کا جیمز ڈائسن ایوارڈ دیا گیا ہے۔

امریکہ کی پینسلوینیا یونیورسٹی میں میکینکل انجینیئرنگ کے چار طلبہ نے ’ٹائٹن آرم‘ نامی یہ مشینی ہاتھ ڈیزائن کیا ہے۔ یہ روبوٹک ہاتھ کمر کے درد کا شکار افراد کی تکلیف دور کرنے اور انھیں پٹھوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اس ہاتھ کی مدد سے لوگ اپنے کام کے دوران بھاری اشیا کو آسانی سے اٹھا سکتے ہیں۔

اس روبوٹ ہاتھ کو آٹھ مہینوں میں بنانے والی ٹیم کے ارکان 48 ہزار امریکی ڈالر کے انعام میں حصہ دار ہوں گے۔

جیمز ڈائسن ایوارڈ یونیورسٹی کی طلبہ کو انجینیئرنگ اور انڈسٹریل ڈیزائن کے شعبوں میں اختراعات کرنے پر دیا جاتا ہے۔

جیمز ڈائسن فاؤنڈیشن کے سر جیمز ڈائسن نے اس ایجاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹائٹن آرم بہت عقل مندانہ ڈیزائن ہے، اور اس ٹیم کی طرف سے اس کو بنانے میں جدید، تیز اور نسبتاً سستی تکنیک کا استعمال اسے مزید دلچسپ بنا دیتی ہے۔‘

مشینی ہاتھ بنانے والے ٹیم کے رکن نک پاروٹا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم بہت خوش ہیں۔ یہ غیر متوقع اور ناقابلِ یقین تھا۔‘

ٹیم نے اس مشینی ہاتھ کا پروٹوٹائپ یا پہلا نمونہ صرف 12000 برطانوی پاؤنڈ کے خرچے میں تیار کیا ہے جس کے بارے میں ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ مارکیٹ میں موجود انسانی جسم کو سہارا دینے کے لیے دیگر روبوٹک آلات کی قیمت سے 50 گنا کم ہے۔

میکینکل انجینیئرنگ میں ماسٹر ڈگری کے 23 سالہ طالب علم نک پاروٹا نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ٹائٹن آرم کی قیمت لوگوں کی استطاعت کے مطابق ہو کیونکہ انسانی جسم کو سہارا دینے کے لیے مشینی آلات کو انشورنس کمپنیاں شاذ و نادر ہی کور کرتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ’ہم نے اس مشینی ہاتھ کے زیادہ تر حصے سستے الومینیم سے بنائے ہیں۔‘

ہارورڈ یونیورسٹی میں میکنیکل اور بائیومیڈیکل انجینیئرنگ کے پروفیسر کارنر والش کے مطابق انسانی جسم کے اوپر پہننے والے روبوٹک آلات کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روبوٹک آلات کے روزمرہ استعمال میں آنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی قیمت میں کمی جاری رہنی چاہیے۔

جمیز ڈائسن ایوارڈ کا دوسری پوزیشن کا ایک جاپانی ٹیم کو دیاگیا جنھوں نے ایک ایسا ہاتھ بنایا تھا جو سنسرز کی مدد سے دماغ کے اشاروں کو پڑھ سکتا تھا۔

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والی طلبہ کی ایک ٹیم کو ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کے لیے بنائے گئے پلاسٹک کے کور پر تیسرے انعام سے نوازا گیا۔

اسی بارے میں