ٹوئٹر نے کیسے بدلی یہ دنیا

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کی شروعات سنہ 2006 میں ہوئی تھی۔

ابتدائی چند سال اس کی کارکردگی کچھ خاص نہ تھی لیکن آج کے دور میں لائیو چیٹ کی خوبی کی وجہ سے ٹوئٹر نے پوری دنیا کے لوگوں کی زندگی میں بہت اہم جگہ بنا لی ہے۔

ٹوئٹر آج جہاں کھڑا ہے یہاں تک اس کا سفر کیسا رہا اور ہیش ٹیگ (#) نے کس طرح باہمی بات چیت کی دنیا بدل دی ہے۔

ہیش ٹیگ انقلاب

کچھ لوگوں کو یہ بات احمقانہ لگ سکتی ہے کہ ٹوئٹر پر یہ بتایا جائے کہ آپ نے دوپہر کو کیا کھایا، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ٹوئٹر نے ہماری زندگی کو ایک نیا رخ دیا ہے۔

اگرچہ اب بھی فیس بک کے مقابلے اس کے صارفین کی تعداد بہت کم ہے لیکن اس کا جتنا اثر ہے اتنا اور کسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کا نہیں۔

ٹوئٹر سے پہلے ہیش ٹیگ بٹن کا استعمال ٹیلیفون میں نمبر بتانے کے لیے کیا جاتا تھا لیکن آج ہیش ٹیگ # کسی خاص موضوع پر گروپ ٹویٹ کرنے کا اہم ذریعہ بن گیا ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ ٹوئٹر نے ہماری زندگی کے کن کن شعبوں کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔

سیاست

Image caption اوباما اور ان کی اہلیہ کی یہ تصویر سب سے زیادہ ٹویٹ ہونے والا پیغام ہے

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے چار سال پہلے ٹوئٹر کا استعمال بند کر دیا تھا لیکن اب وہ دوسرے بڑے سیاستدانوں کی طرح دوبارہ اسے استعمال کرنے لگے ہیں۔

سیاستدانوں کے لیے ٹوئٹر بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔ اس کے ذریعے وہ براہ راست عام لوگوں سے بات کر سکتے ہیں اور کہیں سے بھی بڑے پالیسی ساز اعلانات کی اطلاع دے سکتے ہیں۔

آج سیاسی زندگی کے لیے سوشل میڈیا اتنا ضروری ہو گیا ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات سے پہلے براک اوباما نے ٹویٹس کا تجزیہ کرنے کے لیے ماہرین کی ٹیم بلائی تھی۔

اور جب انہوں نے رپبلکن امیدوار مٹ رومنی کو شکست دی تو اس موقع پر اپنی اہلیہ سے معانقے کا ٹویٹ اتنا مقبول ہوا کہ اس نے سب سے زیادہ ٹویٹ کا ریکارڈ توڑ دیا۔

ٹوئٹر خود اپنے بل بوتے پر تو الیکشن نہیں جتوا سکتا لیکن انتخابی مہم کو متاثر کرنے میں اس کا کردار اب ناقابل تردید طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔

بریکنگ نیوز

Image caption اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی کے بارے میں ٹویٹ کا عکس

اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آج کے دور میں بڑی خبریں اب اکثر ٹوئٹر پر ہی ’بریک‘ ہو رہی ہیں۔

چاہے وہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالنے والے چھاپے کی خبر ہو یا پھر نیویارک میں دریائے ہڈسن پر جہاز کے اترنے کی خبر، ہم تک سب سے پہلے یہ ایک ٹویٹ کے ذریعے ہی پہنچیں۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ کے دفاتر میں ٹوئٹر کو خبروں کے ذریعے کے ساتھ ساتھ براڈكاسٹ پلیٹ فارم کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

حالانکہ اس کے کچھ خطرے بھی ہیں۔ اداکار جیف گولڈبلم کی موت کی افواہ ٹوئٹر پر اتنی پھیلی کہ ان کو امریکی ٹی وی پر آ کر بتانا پڑا کہ وہ زندہ ہیں۔

انہوں نے بڑے ہی مزاحیہ انداز میں کہا تھا، ’جیف گولڈبلم کو سب سے زیادہ میں یاد کروں گا۔ وہ میرے دوست ہی نہیں تھے، بلکہ وہ میں ہی تو تھا۔‘

سیاسی و احتجاجی تحریک

Image caption ٹوئٹر عرب سپرنگ میں مظاہرین کی آواز بنا

ٹوئٹر نے دنیا کے ان ممالک میں احتجاج کو ایک نیا رخ دیا ہے جہاں عوام کی آواز دنیا تک پہنچانا آسان نہیں رہا۔

’عرب سپرنگ‘ کے دوران اس مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ کا کردار سب کے سامنے ہے اور جہاں اس نے احتجاج میں شریک افراد کا پیغام دنیا تک پہنچایا وہیں یہ لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا ذریعہ بھی بنا۔

مصر میں صدر حسنی مبارک کے خلاف انقلاب اور پھر صدر مرسی کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین ٹوئٹر کے ذریعے ہی مظاہروں کی منصوبہ بندی کرتے دکھائی دیے۔

لندن میں رہنےوالي مصنفہ لورا بیٹس 2012 سے ایوري ڈے سیكس ازم نامی منصوبہ ٹوئٹر پر ہی چلا رہی ہیں جس کا مقصد روز مرہ زندگی میں جنسی امتیاز کے طرز عمل کی نشاندہی کرنا ہے۔

ان کامیاب تحریک کی وجہ سے فیس بک کو جنسی تشدد کو لے کر مذاق کرنے والے صفحات کو حذف کرنا پڑا تھا۔

کھیل

Image caption اینڈی مرے کی ومبلڈن میں فتح کی خبر لاکھوں بار ٹویٹ ہوئی

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ٹوئٹر سے پہلے فٹ بال کے کھلاڑیوں اور ان کے مداحوں کا رشتہ صرف نظر کا تھا اور ان کھلاڑیوں کی بات عام لوگوں تک نہیں پہنچ پاتی تھی۔

مگر اب صرف انگلش پریمیئر لیگ کے ہی تمام 20 فٹبال کلبوں کے ٹوئٹر ہینڈل اور زیادہ تر کھلاڑیوں کے اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کھیل کے پرستار آج ٹوئٹر کے ذریعہ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کے مزید قریب ہیں۔

کھیلوں کے مقابلے آج کے دور میں لوگوں کو ٹوئٹر کے ذریعے بےحد قریب لا رہے ہیں مثلاً اینڈی مری نے جب ومبلڈن جیتا تو 12 گھنٹے کے اندر اندر اس بارے میں 34 لاکھ ٹویٹ ہوئے۔

مشہور شخصیات

Image caption ٹوئٹر پر لیڈی گاگا نے چار کروڑ سے زیاد مداح ہیں

ٹوئٹر ایسی مشہور شخصیات کے اپنے مداحوں سے بھی رابطے کا ذریعہ بنا ہے جو عموماً عوام کے درمیان نہیں پائے جاتے۔

وہ فلمی اداکار ہوں یا گلوکار یا پھر ٹی وی سے وابستہ شخصیات، ٹوئٹر کے ذریعے شائقین اور ان کے درمیان تعلق اور ڈائیلاگ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

ایشٹن كچر ان پہلے امریکی اداکاروں میں سے تھے جنہوں نے ٹوئٹر کو اپنایا اور اپریل 2009 تک ٹوئٹر پر انہیں ’فالو‘ کرنے والے شائقین کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچ گئی تھی اور آج یہ تعداد ڈیڑھ کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔

لیڈی گاگا ٹوئٹر پر سب سے مقبول افراد میں سے ایک ہے اور دنیا بھر سے چار کروڑ سے زیادہ افراد انہیں ’فالو‘ کرتے ہیں۔

فن

جب رائل شیكسپيئر کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ ’رومیو جوليٹ‘ کی نقالی کو ٹوئٹر کے ذریعہ فروغ دے رہی ہے تو ایک مصنف نے اس کے بارے میں ہمدردی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ شیكسپييئر کی تخلیقات کے نام پر بنا ادارہ اب 140 حروف والے فورم پر اپنا ڈرامہ پیش کر رہی ہے۔

لیکن آج ٹوئٹر اور آرٹ ایک دوسرے کے مترادف بنتے جا رہے ہیں۔

چاہے وہ فنکارانہ معلومات کے نوٹس دینے کی بات ہو یا ان کی اشاعت یا پھر اس بارے میں صلاح و مشورہ کرنے کی، ٹوئٹر نے فن پر بحث کے اشتراک کے لیے ایک اچھا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔

کاروبار

Image caption ٹوئٹر کو خود بازارِ حصص میں مقبولیت حاصل ہوئی ہے

ایک وقت تھا کہ کسی خراب چیز کے بارے میں شکایتی خط بھیجنے کے بعد کئی دن انتظار کرنا پڑتا تھا کہ جواب آئے گا یا کوئی کارروائی ہوگی اور آخر میں یہی لگتا تھا کہ ایسا شاید کچھ نہ ہو۔

لیکن اب حال یہ ہے کہ ٹوئٹر پر آپ نے کسی پروڈکٹ کی شکایت کا ٹویٹ کیا نہیں کہ ایسے تمام لوگ ٹویٹس کے ذریعہ آپ کی ہاں میں ہاں ملاتے نظر آ جائیں گے اور آج کاروباری کمپنیاں ایسی شکایات کے ’وائرل‘ ہونے یعنی وسیع پیمانے پر پھیلنے سے ڈرتی ہیں۔

آج کے دور میں کسی کمپنی کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے کے لیے ٹوئٹر کے ذریعہ متاثر کیا جا سکتا ہے۔

یہی نہیں مالیاتی بازاروں میں بہت سے لوگ اب کاروبار کے مستقبل پر سوشل میڈیا میں ردعمل دینے لگے ہیں۔

اسی بارے میں