ٹوئٹر کے حصص کی قیمت میں 73 فیصد اضافہ

Image caption مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ TWTR کے نام سے بازارِ حصص میں شامل ہوئی ہے

بازارِ حصص میں فروخت کے لیے پیش کیے جانے کے پہلے ہی دن دنیا کی مقبول مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کے حصص کی قیمت میں 73 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

جمعرات کو ٹوئٹر کے ایک شیئر کی قیمت 26 ڈالر مقرر کی گئی تھی اور دن کے اختتام پر یہ حصص 44 ڈالر 90 سینٹ فی شیئر کی قیمت پر فروخت ہو رہے تھے۔

ٹوئٹر نے یہ دنیا کیسے بدل ڈالی؟

اس کا مطلب یہ ہے کہ بطور پبلک کمپنی ٹوئٹر کی مالیت اب 31 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو نیویارک کے بازارِ حصص میں کاروبار کے آغاز سے قبل ٹوئٹر نے نئی قیمت کا اعلان کیا تھا اور بازار کھلنے کے ایک گھنٹے کے اندر ہی اس کمپنی کے ایک کروڑ 30 لاکھ شیئرز کا کاروبار ہوا۔

اس طرح سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کی لسٹنگ کے بعد یہ اب تک اس شعبے میں ہونے والی سب سے بڑی لسٹنگ ہے۔

فیس بک نے گذشتہ سال مئی میں اپنے حصص فروخت کے لیے پیش کیے تھے اور اس کے بعد سے ٹوئٹر حصص فروخت کے لیے پیش کرنے والی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔

ٹوئٹر نے بازارِ حصص میں اپنے سات کروڑ حصص فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس فروخت سے اسے ایک ارب 82 کروڑ ڈالر حاصل ہوں گے۔

کچھ ماہرین کے مطابق ٹوئٹر کے حصص فروخت ہونے پر سرمایہ کار پرجوش ہیں کیونکہ ٹوئٹر میں ترقی کرنے کی استعداد موجودہے۔

کنسلٹنگ کمپنی اویم کی اہلکار ایڈن زولر کے مطابق ’سرمایہ کار سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور موبائل میں بہت فائدہ دیکھتے ہیں اور اس میں کوئی حیرانی نہیں ہے کہ ٹوئٹر بہت زیادہ جوش پیدا کر رہا ہے اور لوگ اسے اپنا رہے ہیں۔‘

تاہم ایڈن زولر کے مطابق ’ٹوئٹر کو آگے بڑھتے ہوئے اس کی قدر سے وابستہ امیدوں پر پورا اترنا ہو گا اور اسے دکھانا ہو گا کہ وہ مستحکم کاروبار کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔‘

اس وقت دنیا بھر میں ٹوئٹر کے دو کروڑ صارفین ہیں جو ایک دن میں 50 کروڑ سے زیادہ ٹویٹس کرتے ہیں۔

تاہم اتنے زیادہ صارفین کے ہونے کے باوجود کمپنی ابھی تک منافع بخش نہیں ہے۔ ٹوئٹر کو رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں چھ کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

روئٹرز/ipsos کے ایک حالیہ سروے کے مطابق ٹوئٹر کے ایک تہائی صارفین سروس کا استعمال نہیں کرتے۔

اشتہارات کی ایک کنسلٹنسی کمپنی ای مارکیٹر کے مطابق اس سال توقع کی جا رہی ہے کہ کمپنی 583 ملین ڈالر کمائے گی جو کہ گذشتہ سال 288 ملین تھا۔

ٹوئٹر کی زیادہ تر کمائی اشتہارات سے ہے جن کے لیے مختلف کمپنیاں اسے اپنی ٹویٹس کی تشہیر کی مد میں ادائیگی کرتی ہیں۔

ٹوئٹر کا قیام سات سال قبل عمل میں آیا تھا اور اسے بازارِ حصص میں TWTR کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔

ٹوئٹر اپنی آمدن کا بڑا حصہ موبائل فون پر اشتہارات سے بھی حاصل کرتی ہے۔ 2013 تک اسے اشتہارات سے 65 فیصد سے زیادہ آمدن موبائل پر تشہیر سے ہوئی اور اس دوران ٹوئٹر کے 75 فیصد صارفین نے موبائل فون کے ذریعے اس سروس کا استعمال کیا۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمپنی کے دو شریک بانی ایون ولیمز اور ٹوئٹر میں بڑے حصہ دار جیک ڈورسی بازارِ حصص میں کمپنی کے شیئرز کی فروخت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ایون ولیمز کا ٹوئٹر میں 12 جب کہ ڈورسی کا چار اعشاریہ نو فیصد حصہ ہے۔ بنچ مارک کیپیٹل کے پیٹر فینٹن چھ اعشاریہ سات فیصد حصص کے ساتھ کمپنی کے دوسرے بڑے حصہ دار ہیں۔

اسی بارے میں