نئے سکین سے دل کے دورے کی تشخیص ممکن

دل کا سکین
Image caption اس سکین میں نارنجی رنگ میں خطرناک چربیلا لوتھڑا دیکھا جا سکتا ہے

دل کے سکین کے ایک نئے طریقے کے ابتدائی تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ اس کے ذریعے دل کا دورہ پڑنے کے خطرے کی تشخیص کی جا سکے گی۔

اس سکین کے ذریعے شریانوں میں جمع ہونے والی چربی کے لوتھڑوں (plaque) کی تشخیص کی جا سکتی ہے۔ اگر یہ چربی شریانوں میں جمع ہوتی رہے تو وہاں ایک لوتھڑا بن جاتا ہے جس سے دل کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے۔

یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر دل کے دورے کا پہلے سے پتہ چلایا جا سکے تو اس سے مریضوں کو بہت فائدہ ہوگا۔

برطانیہ میں ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو دل کا دورہ پڑتا ہے اور شریانوں کی بیماری دنیا میں اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

محققین نے مریضوں کے جسموں میں ایک تابکار سیال مادہ داخل کیا جو چربی کے خطرناک لوتھڑوں سے چمٹ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دل اور شریانوں کی ہائی ریزولیوشن تصاویر بھی لی گئیں۔

ان دونوں تکنیکوں کا حتمی نتیجہ ایک تصویر کی شکل میں سامنے آیا جس میں شریانوں کے اندر خطرناک لوتھڑے واضح طور پر دکھائی دینے لگے۔

یہ تکنیک کینسر کے مریضوں میں رسولی کی تشخیص کے لیے پہلے ہی سے استعمال ہو رہی ہے۔

دل کی رگوں میں خطرناک لوتھڑوں کی دریافت کی اس تکنیک کو تجرباتی طور پر 40 ایسے مریضوں پر آزمایا گیا جنہیں حال ہی میں دل کا دورہ پڑا تھا۔

لینسٹ میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق اس سکین کے ذریعے ان لوتھڑوں کے بارے میں پتہ چلا جو 37 افراد کو دل کا دورہ پڑنے کی وجہ بنے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سکین کے ذریعے خطرے کی نشاندہی کی جا سکی ہے لیکن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید ٹیسٹوں کی ضرورت ہے کہ اگر دل کا دورہ پڑنے سے پہلے ہی ان خطرناک لوتھڑوں کی تشخیص کر لی جائے تو کیا اس سے لوگوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

ماہرِ قلب ڈاکٹر مارک ڈویک نے بی بی سی کو بتایا: ’میرا خیال ہے کہ تمام لوتھڑے دل کے دورے کا سبب نہیں بنتے، لیکن اس تکنیک سے ان مریضوں کی نشان دہی کی جا سکتی ہے جن میں زیادہ سرگرمی سے علاج کی ضرورت ہو سکتی ہے۔‘

اس علاج میں سٹیٹن اور اسپرین جیسی ادویات کا استعمال، طرزِ زندگی میں مکمل تبدیلی یا شریانوں میں سٹینٹ ڈالنا شامل ہو سکتا ہے تاکہ انہیں کھلا رکھا جا سکے۔

محققین ایسے مریضوں کے کیسوں کو دیکھیں گے جنہیں زیادہ خطرہ ہے یا جن کی سرجری ہونے والی ہے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ سکین سے زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں یا نہیں۔

ڈاکر ڈویک کا کہنا ہے کہ اگر اس یا اس قسم کے دوسرے سکین کامیاب ہوئے تو اس سے بہت زیادہ فرق پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مغربی دنیا میں دل کا دورہ پڑنا اموات کی بڑی وجہ ہے اور اس کی کوئی قبل از وقت وارننگ بھی نہیں ہوتی۔ لوگوں کو پہلی بار دل کی بیماری کے بارے میں اسی وقت معلوم ہوتا ہے جب انہیں دل کا دورہ پڑتا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’اگر ہم اس کا علاج کریں اور بیماری کو بڑھنے سے روک سکیں تو ہم دل کے دورے کو روک سکتے ہیں اور لوگوں کو بچا سکتے ہیں۔‘

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر پیٹر ویسبرگ کا کہنا ہے کہ ’شریانوں میں چربی کے خطرناک لوتھڑوں کی تشخیص ایک ایسا عمل ہے جو دل کے روایتی ٹیسٹوں سے ممکن نہیں۔

’ہمیں اب ان نتائج کی تصدیق کرنا ہوگی اور پھر اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ اس طرح کے نئے ٹیسٹوں کو دل کے مریضوں کے مفاد کے لیے کلینک میں کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘