بھارت کے خلائی مشن کو تعطل کا سامنا

بھارت کے مریخ پر بھیجے جانے والے مشن کو ایک انجن میں خرابی کے باعث متوقع نتائج سامنے نہ آنے کی صورت میں تعطل کا سامنا ہے۔

یہ مسئلہ اس وقت پیش آیا جب انجن کو چلایا گیا جس سے اس خلائی جہاز کے فاصلے کو اکہتر ہزار کلومیٹر سے بڑھا کر اسے ایک لاکھ کلومیٹر تک بڑھانے کی کوشش کی جانی تھی۔

مائع ایندھن کو دھکیلنے والی مشین میں خرابی کے باعث یہ تیرہ سو پچاس کلوگرام وزنی خلائی گاڑی اپنے نشانے سے پیچھے پہنچی۔

تاہم بھارت کے خلائی تحقیق کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ خلائی گاڑی ’بہتر حالت‘ میں ہے۔

اس مریخ پر جانے والی گاڑی جسے باقاعدہ طور پر منگلاین یا مریخ جہاز کہا جاتا ہے میں اب ایک اضافی آلہ ہے جسے استعمال کیا جائے گا اور باقی فاصلے کو طے کیا جائے گا۔

مریخ تک براہِ راست جانے کی بجائے یہ مشن اس مہینے کے آخر تک زمین کے مدار میں گردش کرے گا تاکہ مطلوبہ رفتار حاصل کر سکے اور زمین کی کششِ ثقل سے چھٹکارا حاصل کر سکے۔

پانچویں انجن کو چلانے کی کوششوں میں سے چوتھی کوشش تھی مگر بہت ساری وجوہات کی وجہ سے اسے علی الصبح ہی کیا جانا ہوتا ہے۔

اس ٹیسٹ کے دوران مائع ایندھن کی دو تاروں کو بیک وقت چلایا جانا تھا۔

بھارتی خلائی ادارے کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کوشش میں جہاز میں موجود 825 کلو گرام ایندھن میں سے دو کلو گرام استعمال ہو گیا تھا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ زمین کے مدار میں اس مشن کا چھوڑا جانا اس قدر ٹھیک تھا کہ اس کے نتیجے میں چھ کلو ایندھن بچایا گیا اور اس رکاوٹ کے باوجود اب بھی جہاز میں چار کلو کے قریب اضافی ایندھن ہے۔

یکم دسمبر کو انجن کو دوبارہ چلایا جائے گا جس کے نتیجے میں راکٹ کو مریخ کی طرف اس کے تین سو روزہ سفر پر دھکیلا جائے گا۔

اگلے سال چوبیس ستمبر کو انجن دوبارہ چلا کر خلائی گاڑی کو آہستہ کیا جائے جس کے نتیجے میں یہ مریخ کی کشش ثقل میں شامل ہو سکے گا اور اس کے مدار میں شامل ہو گا۔

خلا میں بھیجنے جانے والے مختلف مشن پر اٹھنے والے اخراجات کے حساب سے یہ مشن بہتر ملین ڈالر کی لاگت کے اعتبار سے بہت سستا ہے۔