مریخ مشن کی خامی دور، مشن اپنی راہ پرگامزن

Image caption بھارت میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مریخ کے خلائی مشن میں پیر کو تکنیکی خرابی آ گئی تھی جسے دور کر لیا گيا ہے

بھارت میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے مریخ پر بھیجی جانے والی خلائی گاڑی میں پیر کو آنے والی تکنیکی خرابی کو منگل کی صبح کو درست کر لیا گیاہے۔

واضح رہے کہ سیارہ مریخ کے لیے روانہ کیے جانے والا جہاز زمین کے بالائی مدار میں تکنیکی خرابی کا شکار ہو گیا تھا۔

اس بارے میں سائنسی شعبے کے معروف صحافی پلّوو باگلا نے بی بی سی کو بتایا: ’منگل کی صبح پانچ بجے اسرو نے بتایا ہے کہ جہاز میں لگے انجن کو دوبارہ فائر کرنے کے بعد ضروری 130 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار حاصل کر لی گئی ہے۔ اب یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ جہاز زمین سے ایک لاکھ کلومیٹر کے طے شدہ فاصلے تک چند گھنٹوں میں پہنچ جائے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ جہاز اسرو کے پیغام کا جواب دے رہا ہے اور پروگرام درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کا خلائی مشن بھارت کے سائنسی تحقیقی ادارے اسرو کی نگرانی میں جاری ہے۔

اس سے قبل یہ مسئلہ اس وقت پیش آیا جب انجن کو دوبارہ چلایا گیا جس سے اس خلائی جہاز کے فاصلے کو 71 ہزار کلومیٹر سے بڑھا کر ایک لاکھ کلومیٹر تک کرنے کی کوشش کی جانی تھی۔

مائع ایندھن کو دھکیلنے والی مشین میں خرابی کے باعث 1350 کلوگرام وزنی خلائی گاڑی اپنے طے شدہ ہدف پر تاخیر سے پہنچی۔

تاہم بھارت کے خلائی تحقیقی کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ خلائی گاڑی ’بہتر حالت‘ میں ہے۔

ہندوستانی خلائی پروگرام کے سربراہ کے رادھا کرشنن نے اعتراف کیا کہ طے شدہ پروگرام کے مطابق راکٹ کو جتنی رفتار حاصل کرنی چاہیے تھی وہ اس کی 25 فیصد رفتار ہی حاصل کر سکا۔

لیکن انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ مریخ کے لیے پرواز کرنے والا جہاز ٹھیک ڈھنگ سے اپنے راستے پر گامزن ہے۔ خلائی مشن کو مریخ کے مدار کی طرف بڑھانے کے لیے اب یکم دسمبر کی تاریخ طے کی گئی ہے۔

مریخ تک براہِ راست جانے کی بجائے یہ مشن اس مہینے کے آخر تک زمین کے مدار میں گردش کرے گا تاکہ مطلوبہ رفتار حاصل کر سکے اور زمین کی کششِ ثقل سے چھٹکارا حاصل کر سکے۔

Image caption یہ مشن پانچ نومبر کو کامیابی کے ساتھ روانہ کیا گیا تھا اور اسے کئی مدارج میں مریخ تک بھیجا جائے گا

بھارتی خلائی ادارے کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس دوران جہاز میں موجود 825 کلو گرام ایندھن میں سے دو کلو گرام استعمال ہو گیا تھا۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ ’زمین کے مدار میں اس مشن کا چھوڑا جانا اس قدر درست تھا کہ اس کے نتیجے میں چھ کلو ایندھن بچایا گیا اور اس رکاوٹ کے باوجود اب بھی جہاز میں چار کلو کے قریب اضافی ایندھن ہے۔‘

یکم دسمبر کو انجن کو دوبارہ چلایا جائے گا جس کے نتیجے میں راکٹ کو مریخ کی طرف اس کے تین سو روزہ سفر پر دھکیلا جائے گا۔

اگلے سال 24 ستمبر کو انجن دوبارہ چلا کر خلائی گاڑی کو آہستہ کیا جائے گا جس کے نتیجے میں یہ مریخ کی کشش ثقل میں داخل ہو کر اس کے مدار میں گردش کرنے لگے گا۔

دوسرے ممالک کی خلائی مہمات پر اٹھنے والے اخراجات کے مقابلے پر 72 ملین ڈالر کی لاگت کے اعتبار سے مشن بہت سستا ہے۔

اسی بارے میں